تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 249
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۹ سورة ال عمران فِي وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَ إِسْرَافَنَا اَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ ) یعنی اے ہمارے خدا! ہمارے گناہ بخش اور جو اپنے کاموں میں ہم حد سے گزر جاتے ہیں وہ بھی معاف فرما۔ پس ظاہر ہے کہ اگر خدا گناہ بخشنے والا نہ ہوتا تو ایسی دُعا ہر گز نہ سکھلاتا۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۵) سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ سُلْطنًا ۚ وَمَا وَلَهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّلِمِينَ عنقریب ہم ان کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے ۔ (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۷۰ حاشیه در حاشیہ نمبر (۴) ثُمَّ انْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ آمَنَةً نُّعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ يُخْفُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ مَّا لَا يُبْدُونَ لَكَ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هُهُنَا قُلْ لَوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إلى مَضَاجِعِهِمْ وَ لِيَبْتَلِيَ اللهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ اس جگہ ڈپٹی صاحب نے جو یہ آیت پیش کی ہے : يَقُولُونَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ اور اس سے ان کا مدعا یہ ہے کہ اس سے جبر ثابت ہوتا ہے، یہ ان کی غلط نہی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ امر کے معنے حکم اور حکومت کے ہیں اور یہ بعض ان لوگوں کا خیال تھا جنہوں نے کہا کہ کاش اگر حکومت میں ہمارا ما را دخل ہوتا تو ہم ایسی تدابیر کرتے جس سے یہ تکلیف جو جنگ احد میں ہوئی ہے پیش نہ آتی ۔ اس کے جواب