تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 247

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۷ سورة ال عمران جو صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہوا وہ بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر دلیل قاطع ہے جو اس آیت کے رو سے اجماع تھا : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ البدر جلد نمبر ۳۳ مورخه ۶ نومبر ۱۹۰۵ء صفحه (۴) خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ - انسان کی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ ہر بات کو قبل از وقت سمجھتا ہے اس لیے جب اس کی کوئی محبوب چیز جاتی رہے تو پھر ضرور غمگین ہوتا ہے یہ ایک فطرتی تقاضا ہے صحابہ کی حالت کا کون انداز کر سکتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تھی ان کو تو قریباً ایک قسم کا جنون ہو گیا تھا اس غم میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں ان پر آیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تو وہ جوش آیا کہ انہوں نے تلوار ہی نکال لی کہ جو شخص کہے گا کہ آپ وفات پاگئے ہیں میں اسے قتل کر دوں گا گویا وہ یہ لفظ بھی سننا نہ چاہتے تھے پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اور آیت : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ پڑھی تو ان کا جوش فرو ہوا۔ یہ آیت دراصل ایک جنگ میں نازل ہوئی تھی جبکہ شیطان کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی آواز دی گئی مگر اس وقت جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو پڑھا تو صحابہ سمجھتے تھے کہ گویا یہ آیت ابھی اتری ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۲) عقیدہ میں یہ بات ہے کہ حضرت عیسیٰ کو ہم اور نبیوں کی طرح فوت شدہ مانتے ہیں اور ایک مسلمان کی محبت جو اسے اپنے متبوع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ جب آپ فوت ہو گئے تو ان کے بعد کسی کو زندہ نہ سمجھے۔ صحابہ کرام کس قدر درد و الم میں تھے جب : مَا مُحَمَّد إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ سنا تو سب کو ٹھنڈ پڑگئی ۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۷ صفحه ۶) خلت کا لفظ قرآن شریف کے محاورے میں ہر گز کسی ایسے شخص کے واسطے استعمال نہیں ہوا جو زندہ ہو بلکہ ہمیشہ وفات یافتہ لوگوں پر ہی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی یہی معنے کیے ہیں چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر جب حضرت عمررؓ نے جوش محبت اور وفور الفت کی وجہ سے تلوار کھینچ لی تھی اور آپ ننگی تلوار لیے گلیوں میں پھرتے تھے اور کہتے تھے کہ جو کوئی کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اس کی گردن مار دوں گا۔