تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 243

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۳ سورة ال عمران ام الله أَوْ تَقُولُونَ مَا لَا تَعْلَمُونَ - جانتے ہو یا اللہ؟ یا تم وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں (الاستفتاء حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۶۵،۶۶۴) جانتے۔( ترجمہ از مرتب ) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تلوار کھینچ کر نکلے کہ اگر کوئی کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کیا ہے تو میں اسے قتل کروں گا ایسی حالت میں حضرت ابوبکر صدیق نے بڑی جرات اور دلیری سے کلام کیا اور کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا: مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ تعالیٰ کے ایک رسول ہی ہیں اور آپ سے پہلے جس قدر نبی ہوگزرے ہیں سب نے وفات پائی ہے اس پر وہ جوش فرو ہوا۔احکم جلد ۹ نمبر۱۷ مورخہ ۱۷ارمئی ۱۹۰۵ صفحه ۲) تمام صحابہ کی شہادت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہی پر یہ ہوتی ہے کہ سب نبی مر گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا کہ ابھی نہیں مرے اور تلوار کھینچ کر کھڑے ہو جاتے ہیں مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر یہ خطبہ پڑھتے (ہیں): ما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔اب اس موقع پر جو ایک قیامت ہی کا میدان تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور کل صحابہ جمع ہیں یہاں تک کہ اسامہ کا لشکر بھی روانہ نہیں ہوا۔حضرت عمرؓ کے کہنے پر حضرت ابو بکر بآواز بلند کہتے ہیں کہ حمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور اس پر استدلال کرتے ہیں: مَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُول سے۔اب اگر صحابہ کے وہم و گمان میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہوتی تو ضرور بول اٹھتے مگر سب خاموش ہو گئے اور بازاروں میں یہ آیت پڑھتے تھے اور کہتے تھے کہ گویا یہ آیت آج اتری ہے۔معاذ اللہ ! صحابہ منافق نہ تھے جو وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے رعب میں آکر خاموش ہو رہے اور حضرت ابوبکر کی تردید نہ کی۔نہیں! اصل بات یہی تھی جو حضرت ابوبکر نے بیان کی اس لیے سب نے گردن جھکا لی۔یہ ہے اجماع صحابہ کا۔حضرت عمرہ بھی تو یہی کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آئیں گے اگر یہ استدلال کامل نہ ہوتا ( اور کامل تب ہی ہوتا کہ کسی قسم کا استثناء نہ ہوتا کیونکہ اگر حضرت عیسیٰ زندہ آسمان پر چلے گئے تھے اور انہوں نے پھر آنا تھا تو پھر یہ استدلال کیا ؟ یہ تو ایک مسخری ہوتی۔) تو خود حضرت عمررؓ ہی تردید کرتے۔