تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 242
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۲ سورة ال عمران اُن کی غلطی ہے یہ میں نے شائع نہیں کیا بلکہ اُس نے شائع کیا ہے جس کی مخلوق ہماری طرح حضرت عیسیٰ بھی ہیں اگر شک ہو تو یہ آیت دیکھیں : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اور نیز یہ آیت : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ انْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ ( المائدة : ۱۱۸) اور تعجب کہ جس کو وہ میرے ہلاک کرنے کے لئے عصا دیتے ہیں وہ آپ ہی ہلاک ہو جاتا ہے یہ خوب عصا ہے۔ سنا ہے کہ دوسرے چراغ دین یعنی عبد الحکیم خان نے بھی میری موت کے بارے میں کوئی پیشگوئی پہلے چراغ دین کی طرح کی ہے مگر ر معلوم معلوم نہ نہیں کہ اُس میں کوئی عصا کا بھی ذکر ہے یا نہیں۔ ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۲۶ حاشیه ) أَيُصِرُّونَ عَلَى حَيَاةِ عِيسَى، وَيُخْفُونَ کیا یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زنا علیہ السلام کی زندگی پر اصرار إِجْمَاعًا اتَّفَقَ عَلَيْهِ الصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ کرتے ہیں اور اس اجماع کو چھپاتے ہیں جس پر سارے اجْمَعُوْنَ وَيَتَّبِعُونَ غَيْرَ سَبِيلِ قَوْمٍ کے سارے صحابہ متفق ہو گئے تھے اور وہ صحابہ جنہوں نے أَدْرَكُوا صُحْبَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض صحبت پایا یہ لوگ ان کا راستہ وَسَلَّمَ وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ اسْتَفَاضَ چھوڑ کر دوسرے کی پیروی کرتے ہیں ان ان صحابہ میں سے ہر ایک مِنَ النَّبِي وَتَعَلَّمَ وَانْعَقَدَ إِجْمَاعُهُمْ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفاضہ کیا اور سیکھا اور عَلَى مَوْتِ عِيسَى، وَهُوَ الْإِجْمَاعُ الْأَوَّلُ ان کا موت مسیح پر اجماع ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بَعْدَ رَسُولِ اللهِ وَيَعْلَمُهُ الْعَالِمُونَ کی وفات کے بعد وہ صحابہ کا پہلا اجماع ہے اور تمام علم أَنَسِيتُمْ قَوْلَ اللهِ : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ والے اسے جانتے ہیں کیا تم خدا تعالیٰ کے قول : قَدْ خَلَتْ الرُّسُلُ أَوْ أَنْتُمْ لِلْكُفْرِ مُتَعَمِّدُوْنَ؟ وَقَدْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کو بھول گئے یا تم بالا رادہ کفر کے مرتکب مَاتَ عَلَى هَذَا الْإِجْمَاعِ مَنْ كَانَ مِنَ ہو رہے ہو حالانکہ اسی اجماع کے عقیدہ پر تمام صحابہ نے الصَّحَابَةِ ثُمَّ مِرْتُمْ شِيَعًا وَهَبَّتْ وفات پائی پھر تم گروہ در گروہ ہو گئے اور تم میں تفرقہ کی ہوا فِيكُمْ رِيحُ التَّفْرِقَةِ - وَمَا أُوتِيتُمُ چل پڑی۔ تمہارے پاس حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی سُلْطَانًا عَلَى حَيَاتِهِ وَ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا پر کوئی دلیل نہیں ہے تم صرف گمان کی پیروی کرتے ہو۔ پھر تَظُنُّونَ وَقَدْ قَالَ اللهُ حِكَايَةً عَنْ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی زبان سے : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کا عِيسَى: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي فَلَا تُفَكَّرُونَ في فقرہ بیان فرمایا ہے لیکن تم اللہ تعالیٰ کے اس قول پر غور قَوْلِ اللهِ وَلَا تَتَوَجَّهُونَ أَأَنْتُمْ اَعْلَمُ نہیں کرتے اور نہ اس طرف توجہ کرتے ہو کیا تم زیادہ