تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 241
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۱ سورة ال عمران غرض اس مرثیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض کم تدبر کرنے والے صحابی جن کی درایت اچھی نہیں تھی (جیسے ابوھریرہ) وہ اپنی غلط فہمی سے عیسی موعود کے آنے کی پیشگوئی پر نظر ڈال کر یہ خیال کرتے تھے کہ حضرت عیسی ہی آجائیں گے جیسا کہ ابتداء میں ابو ہریرہ کو بھی یہی دھو کہ لگا ہوا تھا اور اکثر باتوں میں ابوہریرہ بوجہ اپنی سادگی اور کمی درایت کے ایسے دھوکوں میں پڑ جایا کرتا تھا چنانچہ ایک صحابی کے آگ میں پڑنے کی پیشگوئی میں بھی اس کو یہی دھوکہ لگا تھا۔۔۔۔۔غرض تمام صحابہ کا اجماع حضرت عیسی کی موت پر تھا بلکہ تمام انبیاء کی موت پر اجماع ہو گیا تھا اور یہی پہلا اجماع تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہوا۔اسی اجماع کی وجہ سے تمام صحابہ حضرت عیسی کی موت کے قائل تھے اور اسی وجہ سے حسان بن ثابت نے مذکورہ بالا مرثیہ بنایا تھا جس کا ترجمہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہ ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو تو میری آنکھوں کی پتلی تھا میں تو تیرے مرنے سے اندھا ہو گیا اب تیرے بعد جو شخص چاہے مرے۔عیسی ہو یا موسی مجھے تو تیرے ہی مرنے کا خوف تھا۔اور در حقیقت صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے اور ان کو کسی طرح یہ بات گوارا نہ تھی کہ عیسیٰ جس کا وجود شرک عظیم کی جڑ قرار دیا گیا ہے زندہ ہو اور آپ فوت ہو جائیں۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت اُن کو یہ معلوم ہوتا کہ حضرت عیسی آسمان پر مع جسم عنصری زندہ بیٹھے ہیں اور اُن کا برگزیدہ نبی فوت ہو گیا تو وہ مارے غم کے مرجاتے کیونکہ ان کو ہرگز اس بات کی برداشت نہ تھی کہ کوئی اور نبی زندہ ہو اور اُن کا پیارا بی قبر میں داخل ہو جائے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۴ تا ۳۷) جو شخص حضرت عیسی کو آیت : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ سے باہر رکھتا ہے اُس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ عیسی انسان نہیں ہے اور نیز ظاہر ہے کہ اس صورت میں حضرت ابو بکر کا اس آیت سے استدلال صحیح نہیں ٹھہرتا کیونکہ جبکہ حضرت عیسی آسمان پر زندہ مع جسم عنصری موجود ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو اس آیت سے صحابہ رضی اللہ عنہم کو کوان کی تسلی ہو سکتی تھی؟ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۵ حاشیه ) حضرت عیسی نے جو میرے قتل کرنے کے لئے چراغ دین کو عصا د یا معلوم نہیں کہ یہ جوش اور غضب کیوں اُن کے دل میں بھڑ کا ؟ اگر اس لئے ناراض ہو گئے کہ میں نے اُن کا مرنا دنیا میں شائع کیا ہے تو یہ