تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 227

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۲۷ سورة ال عمران اور گناہ نہ ہوتا تو میں بعوض آپ کے کذاب کہنے کے آپ کو صدیق کہتا اور بعوض اس کے کہ آپ نے محض دروغ گوئی سے مجھے ذلیل اور شکست یافتہ قرار دیا آپ کو معزز اور فتحیاب کے نام سے پکارتا۔( تحفه غزنویہ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۷۱ تا۵۷۷) عبدالحق غزنوی نے یہ کہا کہ ) حضرت مسیح علیہ السلام اور تمام نبیوں کی موت پر اجماع ہو جانا یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔اصحاب کرام تو لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے سب سے ثبوت دینا تو مشکل ہے۔( فرمایا : ) اس جگہ مجھے آپ لوگوں کی حالت پر رونا آتا ہے کہ کیسے خدا نے عقل و علم اور دیانت کو سینوں میں سے چھین لیا۔کیا اسی مایہ علمی پر آپ لوگ مولوی کہلاتے ہیں اور ایک دوسرے کا نام علماء کرام اور صوفیہ عظام رکھتے ہیں۔اے قابل رحم نادان یہ بات فی الواقع سچ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور تمام گذشتہ نبیوں کی موت کی نسبت صحابہ کرام کا اجماع ہو گیا تھا اور جس طرح خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر اجماع پایا گیا ہے اسی قسم کا بلکہ اس سے افضل و اعلیٰ یہ اجتماع تھا اور اگر کوئی جرح قدح اس اجماع پر ہوتا ہے تو اس سے زیادہ جرح قدح خلافت مذکورہ کے اجماع پر ہوگا۔در حقیقت یہ اجماع خلافت ابوبکر کے اجماع سے بہت بڑھ کر ہے کیونکہ اس میں کوئی ضعیف قول بھی مروی نہیں جس سے ثابت ہو جو کسی صحابی نے حضرت ابو بکر کی مخالفت کی یا تخلف کیا یعنی جب کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر بطور استدلال کے یہ آیت پڑھی کہ: مَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَمِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُهُ عَلَى أَعْقَابِكُمُ جس کا یہ ترجمہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک رسول ہے اس میں کوئی جز الوہیت کی نہیں اور اس سے پہلے تمام رسول دنیا سے گزر چکے ہیں یعنی مر چکے ہیں۔پس ایسا ہی اگر یہ بھی مرکز یا قتل ہو کر دنیا سے گزر گیا تو کیا تم دین سے پھر جاؤ گے تو اس آیت کے سننے کے بعد کسی ایک صحابی نے بھی مخالفت نہیں کی اور اٹھ کر یہ عرض نہیں کی کہ یہ آپ کا استدلال ناقص اور نا تمام ہے۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ بعض نبی زندہ جسم عنصری زمین پر موجود ہیں جیسے الیاس و خضر اور بعض آسمان پر جیسے اور میں اور عیسی تو پھر اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت موت کیوں کر ثابت ہو اور کیوں جائز نہیں کہ وہ بھی زندہ ہوں بلکہ تمام صحابہ نے اس آیت کو سن کر تصدیق کی اور سب کے سب اس نتیجہ تک پہنچ گئے کہ تمام نبیوں کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی مرنا ضروری تھا پس یہ اجماع بلا توقف اور تر ڈ د واقع ہوا لیکن وہ اجماع جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر مانا جاتا ہے اس میں بعض صحابہ کی۔