تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 226

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۶ سورة ال عمران کذب عظیم اور ایک بڑا افترا ہے اور صغائر میں سے نہیں ہے بلکہ کبیرہ گناہ ہے پس جبکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک خلت کے معنے دو میں ہی محصور ٹھہرے یعنی مرنا یا قتل کئے جانا تو اس سے زیادہ افترا اور دروغ کیا ہوگا کہ جس طرح نصاری نے خواہ نخواہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا اسی طرح خواہ مخواہ بغیر دلیل اور سلطان مبین کے خلت کے معنوں میں آسمان پر جسم عنصری اُٹھائے جانا داخل سمجھا جائے ہاں ! اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوگا کہ جبکہ ائمہ لغت عرب نے بھی حلت کے معنے کہیں یہ نہیں لکھے کہ کوئی شخص زندہ مع جسم عصری آسمان پر چلا جائے تو کیا حاجت تھی کہ خدا تعالیٰ نے آفَائِن مَّاتَ أَوْ قُتِل کے ساتھ لفظ خَلَتُ کی تشریح فرمائی تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالی جانتا تھا کہ فیج اعوج کے زمانہ میں حلت کے یہ معنے بھی کئے جائیں گے کہ حضرت مسیح کو زندہ مع جسم عنصری آسمان پر پہنچا دیا گیا ہے۔لہذا اس تشریح سے بطور حفظ ماتقدم پہلے سے ہی ان خیالات فاسدہ کارڈ کر دیا۔اب اس تمام تحقیق کے رُو سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے ان معنوں میں کوئی جھوٹ نہیں بولا بلکہ آپ ناراض نہ ہوں آپ خود بوجه ترک معنی قرآن اس قول شنیع درونگوئی کے مرتکب ہوئے ہیں۔میں آپ کو ہزار روپیہ بطور انعام دینے کو طیار ہوں اگر آپ کسی قرآن شریف کی آیت یا کسی حدیث قومی یا ضعیف یا موضوع یا کسی قول صحابی یا کسی دوسرے امام کے قول سے یا جاہلیت کے خطبات یا دواوین اور ہر ایک قسم کے اشعار یا اسلامی فصحاء کے کسی نظم یا نثر سے یہ ثابت کر سکیں کہ خلت کے معنوں میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی شخص مع جسم عنصری آسمان پر چلا جائے۔خدا تعالیٰ کا قرآن شریف میں اول حلت کا بیان کرنا اور پھر ایسی عبارت میں جو بموجب اصول بلاغت و معانی تفسیر کے محل میں ہے صرف مرنا یا قتل کئے جانا بیان فرمانا۔کیا مومن کے لئے یہ اس بات پر حجت قاطع نہیں ہے کہ خلت کے معنے اس محل میں دو ہی ہیں یعنی مرنا یا قتل کئے جانا۔اب خدا کی گواہی کے بعد اور کس کی گواہی کی ضرورت ہے؟ الْحَمْدُ لِلَّهِ ! ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ ! کہ اسی مقام میں خدا تعالی نے میری سچائی کی گواہی دے دی اور بیان فرما دیا کہ خلت کے معنے مرنا یا قتل کئے جانا ہے۔آپ نے تو اس مقام میں اپنے اس اشتہار میں میری نسبت یہ عبارت لکھی ہے کہ ایسا جھوٹ بولا ہے کہ کسی ایماندار بلکہ ذرہ شرم اور حیا کے آدمی کا کام نہیں لیکن یہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان ہے کہ وہی جھوٹ قرآنی شہادت سے آپ پر ثابت ہو گیا۔اب بتلائیے کہ میں آپ کی نسبت کیا کہوں؟ آپ نے ناحق جلد بازی کر کے میرا نام دروغ گو رکھا لیکن میں نہیں چاہتا کہ بدی کا بدی کے ساتھ جواب دوں بلکہ اگر اسلامی شریعت میں جھوٹ بولنا حرام