تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 225

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۵ سورة ال عمران ہے ۔ فَسَيَخْلُوا كَمَا خَلَوْا بِالْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ یعنی حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا سے ایسا ہی گزر جائے گا جیسا کہ دوسرے نبی موت یا قتل کے ساتھ دنیا سے گزر گئے ۔ اب ظاہر ہے کہ ان تمام تفسیر والوں نے لفظ خَلَت کے معنے ماتت ہی کیا ہے یعنی اس آیت کے یہی معنے کئے ہیں کہ جیسے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام فوت ہو گئے ہیں ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پائیں گے ۔ اب دیکھو کہ حضرت مسیح کی موت پر یہ کس قدر روشن ثبوت ہے جو تمام تفسیروں والے یک زبان ہو کر بول رہے ہیں کہ پہلے جس قدر دنیا میں نبی آئے سب فوت ہو چکے ہیں ۔ ماسوا اس کے ہر ایک ایماندار کا یہ فرض ہے کہ اس مقام میں جن معنوں کی طرف خود اللہ جل شانہ نے اشارہ فرمایا ہے اُنہی معنوں کو درست سمجھے اور اس کے مخالف معنوں کو زیغ اور الحاد یقین کرے اور یہ بات نہایت بدیہی اور اظہر من الشمس ہے کہ اللہ جل شانہ نے آیت : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کی تفسیر میں آپ ہی فرما دیا ہے : أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ پس اس ساری آیت کے یہ معنے ہوئے کہ پہلے تمام نبی اس دنیا سے موت یا قتل سے گزر چکے ہیں ۔ سواگر یہ نبی بھی اُنہی کی طرح موت یا قتل سے گزر جائے تو کیا تم دین سے پھر جاؤ گے۔ اس جگہ یہ نکتہ یادرکھنے کے لائق ہے کہ اس مقام میں خدا تعالیٰ نے دنیا سے گزر جانے کے دو ہی طور پر معنے قرار دیتے ہیں ایک یہ کہ بذریعہ موت حتفِ انف یعنی طبعی موت کے انسان مر جائے اور دوسرے یہ کہ مارا جائے یعنی قتل کیا جائے ۔ غرض خدا تعالیٰ نے خکت کے لفظ کو موت یا قتل میں محصور کر دیا ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اگر کوئی تیسراشق بھی خدا تعالیٰ کے علم میں ہوتا تو خلت کے معنوں کی تکمیل کے لئے اس کو بھی بیان فرما تا مثلاً یہ کہنا: آفَابِنُ مَاتَ أَوْ قُتِلَ أَوْرُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ بِجِسْمِهِ كَمَا رُفِعَ عِيسَى انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ سارے نبی پہلے اس سے گزر چکے ہیں پس اگر یہ نبی بھی مر جائے یا قتل کیا جائے یا عیسی کی طرح مع جسم آسمان پر اٹھایا جائے تو کیا تم اس دین سے پھر جاؤ گے۔ اب اے عزیز ! کیا تو خدا پر اعتراض کرے گا کہ وہ اس تیسری شق کا بیان کرنا بھول گیا اور صرف دو شق بیان کئے۔ لیکن عقلمند خوب جانتے ہیں کہ لفظ خلت جو ایک تشریح طلب لفظ تھا اس کی تشریح صرف موت یا قتل سے کرنا اس بات پر قطعی دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس مقام میں خلت کے معنے یا موت یا قتل ہے اور کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا یقینی امر ہے جو اس سے انکار کرنا گویا خدا کی اطاعت سے خارج ہونا اور اس پر افترا کرنا ہے۔ جبکہ خدا تعالیٰ نے اسی آیت میں اپنے ہی منہ سے بیان فرمادیا کہ خلت کے معنے یا مرنا یا قتل کئے جانا ہے تو اس سے مخالف بولنا