تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 224
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۴ سورة ال عمران یعنی اس فاضل کو اس کتاب کا تالیف کرنا اتفاق نہ ہوا یہاں تک کہ گزر گیا اور قبروں کے پیٹ میں بہت سی حسرتیں ہیں یعنی اکثر لوگ قبل اس کے جو اپنے ارادے پورے کریں مرجاتے ہیں اور حسرتوں کو قبروں میں ساتھ لے جاتے ہیں۔اب دیکھو کہ اس جگہ بھی گزرنا بمعنی مرنے کے ہے اور اگر یہ کہو کہ کس تفسیر والے نے یہ معنے لکھے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ ہر ایک محقق مفسر جو عقل اور بصیرت اور علم بصیرت سے حصہ رکھتا ہے یہی معنے لکھتا ہے دیکھو! تفسیر مظہری صفحہ ۴۸۵ زیر آیت : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ يعنى مَضَتْ وَ مَاتَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ یعنی پہلے نبی دنیا سے گزر گئے اور مر گئے اور الف لام سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی ان میں سے موت سے خالی نہیں رہا۔ایسا ہی تفسیر تبصیر الرحمان و تيسير المنان للشيخ العلامة زین الدین علی المهائمی - زیر آیت : قَد خَلَتْ لکھا ہے قَدْ خَلَتْ مِنْهُم مَّن مَّاتَ وَمِنْهُمْ مَنْ قُتِلَ فَلَا مَنَافَاتَ بَيْنَ الرَّسَالَةِ وَالْقَتْلِ وَالْمَوْتِ۔دیکھو اصفحہ ۱۷۷۔جلد پہلی۔تبصیر الرحمان۔یعنی گزشتہ انبیاء دنیا سے اس طرح گزر گئے کہ کوئی مر گیا اور کوئی قتل کیا گیا۔پس نبوت اور موت اور قتل میں کچھ منافات نہیں۔ایسا ہی تفسیر جامع البيان للشيخ العلامة سيّد معین الدین ابن شیخ سید صفی الدین صفحہ ۲۱ میں زیر آیت : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ لکھا ہے۔قَد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ بِالْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ فَيَخْلُو مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ايضًا یعنی تمام نبی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھے موت کے ساتھ یا قتل کے ساتھ دنیا سے گزر گئے۔ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا سے گزر جائیں گے۔ایسا ہی حاشیہ غاية القاضى وكفاية الراضي على تفسير البيضاوی جلد ۳ صفحہ ۶۸ مقام مذکور کے متعلق یہ لکھا ہے۔لَيْسَ رَسُولُنَا) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَرِّءٌ عَنِ الْهَلَاكِ كَسَائِرِ الرُّسُلِ وَيَخْلُوْ كَمَا خَلَوْا۔یعنی ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موت سے مستثنیٰ نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ پہلے اُن سے تمام پیغمبر مر چکے ہیں وہ بھی مریں گے اور جیسا کہ وہ اس دنیا سے گزر گئے وہ بھی گزر جائیں گے۔ایسا ہی تفسیر جمل میں جس کا دوسرا نام فتوحات الہیہ ہے یعنی جلد ایک صفحہ ۳۳۶ میں زیر تفسیر آیت: وَمَا مُحَمَّدٌ - قَدْ خَلَتْ یہ لکھا ہے۔كَأَنَّهُمُ اعْتَقَدُوْا أَنَّهُ لَيْسَ كَسَائِرِ الرُّسُلِ فِي أَنَّهُ يَمُوتُ كَمَا مَاتُوا۔یعنی بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو گویا یہ گمان ہوا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے نبیوں کی طرح نہیں مریں گے بلکہ زندہ رہیں گے سوفر مایا کہ وہ بھی مرے گا جیسا کہ پہلے تمام نبی مر گئے۔ایسا ہی تفسیر صافی زیر آیت مذکورہ جلد اول میں لکھا