تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 213
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۱۳ سورة ال عمران فَمَا يَفِي شَكٍّ بَعْدَ ذلِكَ في وَفَاةِ الْمَسِیح سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت استدلال وَامْتِنَاعِ رُجُوعِهِ إِن كُنتُمْ بِالله وَآيَاتِ؟ کیا تھا پس اس کے بعد اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو حضرت مسیح کی وفات اور مسیح کے واپس نہ مُؤْمِنِينَ ( تحفہ، بغداد ، روحانی خزائن جلدے صفحہ (9) آنے کے متعلق کوئی شک باقی نہیں رہتا۔( ترجمہ از مرتب) فَحَاصِلُ الْكَلَامِ أَن أَبا بكر الصديق خلاصہ کلام یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رَدَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ قَوْلَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اس آیت کے ساتھ حضرت عمر کے قول کی تردید کی پھر ثُمَّ مَا اكْتَفى عَلى ذلِكَ بَلْ قَصَد آپ نے اسی پر بس نہ کیا بلکہ آپ مسجد میں تشریف لے الْمَسْجِد وَانْطَلَقَ مَعَه رَحط فین گئے آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت بھی تھی۔مسجد میں رَهْطُ مِن الصَّحَابَةِ، فَجَاءَ وَصَعد المنبر، وجمع پہنچ کر آپ منبر پر رونق افروز ہوئے تمام موجود صحابہ کو آپ حَوْلَهُ كُلَّ مَنْ كَانَ مَوْجُودًا من أَصْحَاب نے اپنے گرد جمع کر لیا پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا اور پھر فرمایا اے أَتَى عَلَى اللهِ وَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ وَقَالَ: لوگو! تم یہ جان لو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا أَيُّهَا النَّاسُ اعْلَمُوا أَنَّ رَسُولُ اللہ صَلَّی گئے ہیں پس تم میں سے جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَد تُونِي فَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ عبادت کرتا تھا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ حضور فوت مُحَمَّدًا فَلْيَعْلَمُ أَنَّه قد مات، وَ مَنْ كَانَ ہو گئے ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو یقیناً يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّه حَقٌّ لَّا يَمُوتُ ثُمَّ قَرَأَ: وَ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر کبھی موت نہیں آئے گی پھر مَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ آپ نے یہ آیت تلاوت کی وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمُ عَلَى خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَابِنُ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُم أَعْقَابِكُمْ فَاسْتَدَلَّ بِهذِهِ الْآيَةِ عَلَى عَلَى أَعْقَابِكُمْ۔اور آپ نے اس آیت سے رسول اللہ صلی مَوْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ علیہ وسلم کی وفات پر استدلال فرمایا اس بات پر بناء بِنَاءٌ عَلى أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ كُلَّهُمْ قَدْ مَاتُوا رکھتے ہوئے کہ سب کے سب انبیاء فوت ہو گئے ہیں پس فَلَمَّا سَمِعَ الصَّحَابَةُ قَوْلَ الصَّدِيقِ رَضِيَ جب صحابہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بات سنی اللهُ عَنْهُ مَا رَةً أَحَدٌ عَلى قَوْلِهِ، وَمَا قَالَ تو ان میں سے کسی نے بھی آپ کی بات کی تردید نہیں کی۔