تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 6

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران کہ قیصر و کسری کے خزانوں کی کنجیاں آپ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے تھے اور آنجناب نے نہ قیصر اور کسری کے خزانہ کو دیکھا اور نہ کنجیاں دیکھیں مگر چونکہ مقدر تھا کہ وہ کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود خلی طور پر گویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا اس لئے عالم وحی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ قرار دیا گیا۔خلاصہ کلام یہ کہ دھوکا کھانے والے اسی مقام پر دھوکا کھاتے ہیں ، وہ اپنی بدقسمتی سے پیشگوئی کے ہر ایک حصہ کی نسبت یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ظاہری طور پر ضرور پورا ہوگا اور پھر جب وقت آتا ہے اور کوئی مامور من اللہ آتا ہے، تو جو جو علامتیں اُس کے صدق کی نسبت ظاہر ہو جائیں ان کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور جو علامتیں ظاہری صورت میں پوری نہ ہوں یا ابھی اُن کا وقت نہ آیا ہو ان کو بار بار پیش کرتے ہیں۔ہلاک شدہ امتیں جنہوں نے سچے نبیوں کو نہیں مانا ان کی ہلاکت کا اصل موجب یہی تھا، اپنے زعم میں تو وہ لوگ اپنے تئیں بڑے ہوشیار جانتے رہے ہیں مگر ان کے اس طریق نے قبول حق سے اُن کو بے نصیب رکھا۔یہ عجیب ہے کہ پیشگوئیوں کی نانہی کے بارے میں جو کچھ پہلے زمانہ میں یہود اور نصاری سے وقوع میں آیا اور انہوں نے بچوں کو قبول نہ کیا۔ایسا ہی میری قوم مسلمانوں نے میرے ساتھ معاملہ کیا یہ تو ضروری تھا کہ قدیم سنت اللہ کے موافق وہ پیشگوئیاں جو مسیح موعود کے بارے میں کی گئیں وہ بھی دو حصوں پر مشتمل ہوتیں؛ ایک حصہ بینات کا جو اپنی ظاہر صورت پر واقع ہونے والا تھا اور ایک حصہ متشابہات کا جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں تھا۔لیکن افسوس کہ اس قوم نے بھی پہلے خطا کا رلوگوں کے قدم پر قدم مارا اور متشابہات پر اڑ کر ان بینات کو رد کر دیا جو نہایت صفائی سے پوری ہوگئی تھیں۔حالانکہ شرط تقویٰ یہ تھی کہ پہلی قوموں کے ابتلاؤں کو یاد کرتے ، متشابہات پر زور نہ مارتے اور مبینات سے یعنی ان باتوں اور ان علامتوں سے جو روزِ روشن کی طرح کھل گئی تھیں فائدہ اٹھاتے۔مگر وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی وہ پیشگوئیاں پیش کی جاتی ہیں جن کے اکثر حصے نہایت صفائی سے پورے ہو چکے ہیں تو نہایت لا پرواہی سے اُن سے منہ پھیر لیتے ہیں اور پیشگوئیوں کی بعض باتیں جو استعارات کے رنگ میں تھیں پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حصہ پیشگوئیوں کا کیوں ظاہری طور پر پورا نہیں ہوا۔اور با ایں ہمہ جب پہلے مذبوں کا ذکر آوے جنہوں نے بعینہ اُن لوگوں کی طرح واقع شدہ