تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 212
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۲ سورة ال عمران آنے والے نہ ہوں ۔ پس تمام رسولوں کی نسبت جو آیت موصوفہ بالا میں خلت کا لفظ استعمال کیا گیا وہ اسی لحاظ سے استعمال کیا گیا تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ لوگ ایسے گئے ہیں کہ پھر دنیا میں ہر گز نہیں آئیں گے۔ چونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال یافتہ ہونے کی حالت میں آپ کے چہرہ مبارک کو بوسہ دے کر کہا تھا کہ تو حیات اور موت میں پاک ہے تیرے پر دو موتیں ہرگز وارد نہیں ہوں گی یعنی تو دوسری مرتبہ دنیا میں ہر گز نہیں آئے گا۔ اس لئے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے قول کی تائید میں آیت قرآن کریم کی پیش کی جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ سب رسول جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھے گزر چکے ہیں اور جو رسول اس دنیا سے گزر گئے ہیں پھر اس دنیا میں ہر گز نہیں آئیں گے کیونکہ جیسا کہ قرآن شریف میں اور فوت شدہ لوگوں کی نسبت خلوا یا خلت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایسا ہی یہی لفظ نبیوں کے حق میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اور یہ لفظ موت کے لفظ سے اخص ہے کیونکہ اس کے مفہوم میں یہ شرط ہے کہ اس عالم سے گزر کر پھر اس عالم میں نہ آوے۔ غرض امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس جگہ فوت شدہ نبیوں کے دوبارہ نہ آنے کے بارے میں اوّل قول ابو بکر صدیق کا پیش کیا جس میں یہ بیان ہے کہ خدا تیرے پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا کیونکہ دوبارہ آنا دو موتوں کو مستلزم ہے اور پھر اس بارے میں قرآن کریم کی آیت پیش کی اور یہ ثبوت دیا کہ خلا اس گزرنے کو کہتے ہیں کہ پھر اس کے بعد عود نہ ہو۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۸۹،۵۸۸) اللہ جل شانہ کی یہ دلیل معقولی که قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ جو بطور استقراء کے بیان کی گئی ہے یہ ایک قطعی اور یقینی دلیل استقرائی ہے جب تک کہ اس دلیل کو توڑ کر نہ دکھلایا جائے اور یہ ثابت نہ کیا جائے کہ خدا تعالیٰ کی رسالتوں کو لے کر خدا تعالیٰ کے بیٹے بھی آیا کرتے ہیں اس وقت تک حضرت مسیح کا خدا تعالیٰ کا حقیقی بیٹا ہونا ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ جل شانہ اس دلیل میں صاف توجہ دلاتا ہے کہ تم مسیح سے لے کر انبیاء کے انتہائی سلسلہ تک دیکھ لو جہاں سے سلسلہ نبوت کا شروع ہوا ہے کہ بجر نوع انسان کے کبھی خدا یا خدا کا بیٹا بھی دنیا میں آیا ہے اور اگر یہ کہو کہ آگے تو نہیں آیا مگر اب تو آگیا تو فن مناظرہ میں اس کا نام مصادر علی المطلوب ہے یعنی جو امر متنازعہ فیہ ہے اسی کو بطور دلیل پیش کر دیا جائے۔ (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۱۴) يَعْنِي مَا تُوا كُلُّهُمْ كَمَا اسْتَدَلَّ بِهِ الصَّدِّيقُ یعنی تمام کے تمام رسول فوت ہو گئے جیسا کہ الْأَكْبَرُ عِنْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس آیت