تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 211

۲۱۱ سورة ال عمران تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچ گیا ہو۔سواس جگہ ناظرین ببداہت سمجھ سکتے ہیں کہ اگر حضرت مسیح جو گزشتہ رسولوں میں سے ایک رسول ہیں اب تک مرے نہیں بلکہ زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے تو اس صورت میں مضمون اس آیت کا جو عام طور پر ہر یک گزشتہ نبی کے فوت ہونے پر دلالت کر رہا ہے صحیح نہیں ٹھہر سکتا بلکہ یہ استدلال ہی لغو اور قابلِ جرح ہوگا۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۶۴، ۲۶۵) محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک نبی ہیں ان سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے ہیں۔اب کیا اگر وہ بھی فوت ہو جائیں یا مارے جائیں تو ان کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا؟ جس کی وجہ سے تم دین سے پھر جاؤ۔اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ اگر نبی کے لئے ہمیشہ زندہ رہنا ضروری ہے تو ایسا نبی پہلے نبیوں میں سے پیش کر و جواب تک زندہ موجود ہے اور ظاہر ہے کہ اگر مسیح ابن مریم زندہ ہے تو پھر یہ دلیل جو خدائے تعالیٰ نے پیش کی صحیح نہیں ہوگی۔از الداوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۷) بخاری کے صفحہ ۶۴۰ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت کی گئی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو بعض آدمی یہ گمان کرتے تھے کہ آنحضرت فوت نہیں ہوئے اور بعض کہتے تھے کہ فوت ہو گئے مگر پھر دنیا میں آئیں گے۔اس حالت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ کے گھر گئے اور دیکھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تب وہ چادر کا پردہ اُٹھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کی طرف جھکے اور چوما اور کہا کہ میرے ماں باپ تیرے پر قربان! مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ خدا تیرے پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔پھر لوگوں میں آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فوت ہو جانا ظاہر کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہونے اور پھر دنیا میں نہ آنے کی تائید میں یہ آیت پڑھی : مَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ یعنی محمد اس سے زیادہ نہیں کہ وہ رسول اللہ ہے اور اس سے پہلے تمام رسول اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے گزر چکے ہیں۔یادر ہے کہ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کا الف لام استغراق کا ہے جو رسولوں کی جمع افراد گزشتہ پر محیط ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر دلیل ناقص رہ جاتی ہے کیونکہ اگر ایک فرد بھی باہر رہ جائے تو وہ پھر وہ استدلال جو مدعا قرآن کریم کا ہے اس آیت سے پیدا نہیں ہوسکتا۔اس آیت کے پیش کرنے سے حضرت ابو بکر صدیق نے اس بات کا ثبوت دیا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا کہ جو فوت نہ ہوا ہو اور نیز اس بات کا ثبوت دیا کہ جو فوت ہو جائے پھر دنیا میں کبھی نہیں آتا۔کیونکہ لغت عرب اور محاورہ اہل عرب میں خلا یا خَلَتْ ایسے لوگوں کے گزرنے کو کہتے ہیں جو پھر