تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 210
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۰ سورة ال عمران بنی اسماعیل کو لے لیا کیونکہ وہ لوگ عیش و عشرت میں پڑ کر خدا کو بھول گئے ہوئے ہیں۔وَ تِلْكَ الْآيَامُ تدَا وِلهَا بَيْنَ النَّاسِ - رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحہ ۴۲) یا درکھو کہ خدا سب کچھ آپ کرتا ہے ہم اور ہماری جماعت اگر سب کے سب حجروں میں بیٹھ جاویں تب بھی کام ہو جاوے گا اور دجال کو زوال آوے گا : تِلْكَ الأَيَّام نداولھا۔اس کا کمال بتاتا ہے کہ اب اس کے زوال کا وقت ہے، اس کا ارتفاع ظاہر کرتا ہے کہ اب وہ نیچا دیکھے گا، اس کی آبادی اس کی بربادی کا نشان ہے۔ہاں ! ٹھنڈی ہوا چل پڑی ہے، خدا کے کام آہستگی کے ساتھ ہوتے ہیں۔( بدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۱۹ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۶) یہودی کہتے ہیں کہ بنی اسماعیل کو نبوت کیوں ملی وہ نہیں جانتے تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ خدا تعالیٰ سے اگر کوئی مقابلہ کرتا ہے تو وہ مردود ہے وہ ہر ایک سے پوچھ سکتا ہے اس سے کوئی نہیں پوچھ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۰) سکتا۔وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَابِنُ مَاتَ اَو قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمُ ، وَمَنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَ اللهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّكِرِينَ (۱۴۵) یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم محض ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں پس کیا اگر وہ فوت ہو گئے یا قتل کئے گئے تو تم دین اسلام کو چھوڑ دو گے۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۹۱) خداوند عزّ وجلّ نے عام اور خاص دونوں طور پر مسیح کا فوت ہو جانا بیان فرمایا ہے عام طور پر جیسا کہ وہ فرماتا ہے : وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَابِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمُ یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے ہر یک رسول جو آیا وہ گزر گیا اور انتقال کر گیا اب کیا تم اس رسول کے مرنے یا قتل ہو جانے کی وجہ سے دین اسلام چھوڑ دو گے؟ اب دیکھو یہ آیت جو استدلالی طور پر پیش کی گئی ہے صریح دلالت کرتی ہے کہ ہر یک رسول کوموت پیش آتی رہی ہے خواہ وہ موت طبعی طور پر ہو یا قتل وغیرہ سے اور گزشتہ نبیوں میں سے کوئی ایسا نبی نہیں جو مرنے سے