تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 203
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۳ سورة ال عمران تھی اور وہ یہ کہ بدر چودھویں کے چاند کو بھی کہتے ہیں اس سے چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کی نصرت نصرت کے اظہار کی طرف بھی ایما ہے اور یہ چودھویں صدی وہی صدی ہے جس کے لیے عورتیں تک کہتی تھیں کہ چودھویں صدی خیر و برکت کی آئے گی ۔ خدا کی باتیں پوری ہوئیں اور چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کے منشا کے موافق اسم احمد کا بروز ہوا اور وہ میں ہوں جس کی طرف اس واقعہ بدر میں پیشگوئی تھی جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا مگر افسوس کہ جب وہ دن آیا اور چودھویں کا چاند نکلا تو دوکاندار، خود غرض کہا گیا۔ افسوس ! ان پر جنہوں نے دیکھا اور نہ دیکھا ، وقت پایا اور نہ پہچانا۔ وہ مر گئے جو منبروں پر چڑھ چڑھ کر رویا کرتے تھے کہ چودھویں صدی میں یہ ہوگا اور وہ رہ گئے جواب منبروں پر چڑھ کر کہتے ہیں کہ جو آیا ہے وہ کا ذب ہے !!! ان کو کیا ہو گیا یہ کیوں نہیں دیکھتے اور کیوں نہیں سوچتے ۔ اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے بدر ہی میں مدد کی تھی اور وہ مدد اذلہ کی مدد تھی جس وقت ۱۳ ۳ آدمی صرف میدان میں آئے تھے اور کل دو تین لکڑی کی تلواریں تھیں اور ان ۳۱۳ میں زیادہ تر چھوٹے بچے تھے،اس سے زیادہ کمزوری کی حالت کیا ہوگی اور دوسری طرف ایک بڑی بھاری جمعیت تھی اور وہ سب کے سب چیدہ چیدہ جنگ آزمودہ اور بڑے بڑے جوان تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ظاہری سامان کچھ نہ تھا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ پر دعا کی: اَللَّهُمَّ إِنْ أَهْلَكْتَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ لَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا یعنی اے اللہ ! اگر آج تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ رہے گا۔ سنو ! میں بھی یقینا اسی طرح کہتا ہوں کہ آج وہی بدر کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ اسی طرح ایک جماعت تیار کر رہا ہے وہی بدر اور آذلہ کا لفظ موجود ہے۔ کیا یہ جھوٹ ہے کہ اسلام پر ذلت نہیں آئی ؟ نہ سلطنت ظاہری میں شوکت ہے ، ایک یوروپ کی سلطنت منہ دکھاتی ہے تو بھاگ جاتے ہیں اور کیا مجال ہے جو سر اٹھائیں ، اس ملک کا کیا حال ہے؟ کیا آذلہ نہیں ہیں ؟ ہندو بھی اپنی طاقت میں مسلمانوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔ کوئی ایک ذلت ہے جس میں ان کا نمبر بڑھا ہوا ہے؟ جس قدر ذلیل سے ذلیل پیشے ہیں وہ ان میں پاؤ گے، ٹکڑ گدا مسلمان ہی ملیں گے، جیل خانوں میں جاؤ تو جرائم پیشہ گرفتار مسلمان ہی پاؤ گے، شراب خانوں میں جاؤ کثرت سے مسلمان ۔ اب بھی کہتے ہیں ذلت نہیں ہوئی؟ کروڑ ہا نا پاک اور گندی