تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 5
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران لگے رہتے ہیں کہ گویا ابھی وہ باتیں پوری نہیں ہوئیں بلکہ آئندہ ہوں گی جیسا کہ یہود ابھی تک اس بات کو روتے ہیں کہ ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا اور پھر اُن کا مسیح موعود بڑے بادشاہ کی طرح ظاہر ہوگا اور یہودیوں کو امارت اور حکومت بخشے گا حالانکہ یہ سب باتیں پوری ہو چکیں اور اُس پر انیس سو برس کے قریب عرصہ گزر گیا اور آنے والا آ بھی گیا اور اس دنیا سے اُٹھایا بھی گیا۔( البدر جلد ۲ نمبر ۴۷، مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۷۲) یہ بات نہایت کارآمد اور یا درکھنے کے لائق تھی کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مامور ہو کر آتے ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی یا محدث اور مجدد، ان کی نسبت جو پہلی کتابوں میں یارسولوں کی معرفت پیشگوئیاں کی جاتی ہیں ان کے دو حصے ہوتے ہیں؛ ایک وہ علامات جو ظاہری طور پر وقوع میں آتی ہیں اور ایک متشابہات جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں ہوتی ہیں۔پس جن کے دلوں میں زیغ اور کبھی ہوتی ہے وہ متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور طالب صادق بینات اور محکمات سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔یہود اور عیسائیوں کو یہ ابتلا پیش آچکے ہیں۔پس مسلمانوں کے اولوالا بھار کو چاہئے کہ اُن سے عبرت پکڑیں اور صرف متشابہات پر نظر رکھ کر تکذیب میں جلدی نہ کریں اور جو باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے کھل جائیں اُن سے اپنی ہدایات کے لئے فائدہ اٹھا دیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ شک یقین کو رفع نہیں کر سکتا پس پیشگوئیوں کا وہ دوسرا حصہ جو ظاہری طور پر ابھی پورا نہیں ہوا وہ ایک امر شکی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ایلیا کے دوبارہ آنے کی طرح وہ حصہ استعارات یا مجاز کے رنگ میں پورا ہو گیا ہو مگر انتظار کرنے والا اس غلطی میں پڑا ہو کہ وہ ظاہری طور پر کسی دن پورا ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض احادیث کے الفاظ محفوظ نہ رہے ہوں کیونکہ احادیث کے الفاظ وحی متلو کی طرح نہیں اور اکثر احادیث احاد کا مجموعہ ہیں اعتقادی امر تو الگ بات ہے جو چاہو اعتقاد کرو مگر واقعی اور حقیقی فیصلہ یہی ہے کہ احاد میں عند العقل امکان تغیر الفاظ ہے چنانچہ ایک ہی حدیث جو مختلف طریقوں اور مختلف راویوں سے پہنچتی ہے اکثر ان کے الفاظ اور ترتیب میں بہت سا فرق ہوتا ہے حالانکہ وہ ایک ہی وقت میں ایک ہی منہ سے نکلی ہے۔پس صاف سمجھ آتا ہے کہ چونکہ اکثر راویوں کے الفاظ اور طرز بیان جُدا جُدا ہوتے ہیں اس لئے اختلاف پڑ جاتا ہے اور نیز پیشگوئیوں کے متشابہات کے حصہ میں یہ بھی ممکن ہے کہ بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہونا امید رکھا گیا ہے وہ تدریجاً ظاہر ہوں یا کسی اور شخص کے واسطے سے ظاہر ہوں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی