تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 199

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۹ سورة ال عمران بھی تو بنانی ضروری ہے پس یا درکھو کہ زبان کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے کبھی مت روکو۔ہاں !محل اور موقع کی شناخت بھی ضروری ہے اور انداز بیان ایسا ہونا چاہیے جو نرم ہو اور سلاست اپنے اندر رکھتا ہو اور ایسا ہی تقویٰ کے خلاف بھی زبان کا کھولنا سخت گناہ ہے۔(الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۴) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَ مَا تُخْفِى ج صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ - قَد بَيَّنَا لَكُمُ الْأيتِ إِن كُنتُم تَعْقِلُونَ ٥ یعنی یہود اور نصاری سے محبت مت کرو اور ہر ایک شخص جو صالح نہیں اس سے محبت مت کرو۔ان آیتوں کو پڑھ کر نادان عیسائی دھوکا کھاتے ہیں کہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ عیسائی وغیرہ بے دین فرقوں سے محبت نہ کریں۔لیکن نہیں سوچتے کہ ہر یک لفظ اپنے محل پر استعمال ہوتا ہے جس چیز کا نام محبت ہے وہ فاسقوں اور کافروں سے اُسی صورت میں بجالا نا متصور ہے کہ جب ان کے کفر اور فسق سے کچھ حصہ لے لیوے۔نہایت سخت جاہل وہ شخص ہو گا جس نے یہ تعلیم دی کہ اپنے دین کے دشمنوں سے پیار کرو۔ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ پیار اور محبت اس کا نام ہے کہ اس شخص کے قول اور فعل اور عادت اور خلق اور مذہب کو رضا کے رنگ میں دیکھیں اور اس پر خوش ہوں اور اس کا اثر اپنے دل پر ڈال لیں اور ایسا ہونا مومن سے کافر کی نسبت ہر گز ممکن نہیں۔ہاں! مومن کا فر پر شفقت کرے گا اور تمام دقائق ہمدردی بجالائے گا اور اس کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا غمگسار ہوگا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ بغیر لحاظ مذہب ملت کے تم لوگوں سے ہمدردی کرو، بھوکوں کو کھلاؤ، غلاموں کو آزاد کرو، قرض داروں کے قرض دو اور زیر باروں کے بار اٹھاؤ اور بنی نوع سے سچی ہمدردی کا حق ادا کرو۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ ۲۱۷،۲۱۶) إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا ، وَ اِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُم شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ محيطان اگر تم صبر کرو گے اور ہر یک طور کی بے صبری اور اضطراب سے پر ہیز کرو گے تو ان لوگوں کے مکر کچھ بھی