تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 4

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران کتب مقدسہ کے اُلٹے معنے کرتا ہے اور نہایت شرارت سے اس بات پر زور دیا کہ نبیوں کی پیشنگوئیوں کا ایک حرف بھی صادق نہیں آتا، وہ نہ بادشاہ ہو کر آیا اور نہ غیر قوموں سے لڑا اور نہ ہم کو اُن کے ہاتھ سے چھڑا یا اور نہ اس سے پہلے ایلیا نبی نازل ہوا پھر وہ مسیح موعود کیوں کر ہو گیا ؟ غرض ان بد قسمت شریروں نے سچائی کے انوار اور علامات پر نظر ڈالنا نہ چاہا اور جو حصہ متشابہات کا پیشگوئیوں میں تھا اُس کو ظاہر پر حمل کر کے بار بار پیش کیا۔یہی ابتلا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اکثر یہودیوں کو پیش آیا۔انہوں نے بھی اپنے اسلاف کی عادت کے موافق نبیوں کی پیشگوئیوں کے اُس حصہ سے فائدہ اُٹھانا نہ چاہا جو بینات کا حصہ تھا اور متشابہات جو استعارات تھے اپنی آنکھ کے سامنے رکھ کر یا تحریف شدہ پیشگوئیوں پر زور دے کر اُس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی دولت اطاعت سے جو سید الکونین ہے محروم رہ گئے اور اکثر عیسائیوں نے بھی ایسا ہی کیا انجیل کی کھلی کھلی پیشگوئیاں ہمارے (نبی) صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تھیں ان کو تو ہاتھ تک نہ لگایا اور جو سنت اللہ کے موافق پیشگوئیوں کا دوسرا حصہ یعنی استعارات اور مجازات تھے اُن پر گر پڑے اس لئے حقیقت کی طرف راہ نہ پاسکے۔لیکن ان میں سے وہ لوگ جو حق کے طالب تھے اور جو پیشگوئیوں کی تحریر میں طرز و عادت الہی سے اُس سے واقف تھے انہوں نے انجیل کی اُن پیشگوئیوں سے جو آنے والے بزرگ نبی کے بارے میں تھیں فائدہ اُٹھایا اور مشرف بااسلام ہوئے۔اور جس طرح یہود میں سے اُس گروہ نے جو حضرت عیسی پر ایمان لائے تھے پیشگوئیوں کے بینات سے دلیل پکڑی تھی اور متشابہات کو چھوڑ دیا تھا ایسا ہی ان بزرگ عیسائیوں نے بھی کیا اور ہزار ہانیک بخت انسان اُن میں سے اسلام میں داخل ہوئے۔غرض ان دونوں قوموں؛ یہود و نصاریٰ میں سے جس گروہ نے متشابہات پر جم کر انکار پر زور دیا اور مہینات پیشگوئیوں سے جو ظہور میں آئیں فائدہ نہ اُٹھایا، ان دونوں گروہ کا قرآن شریف میں جابجاذکر ہے اور یہ ذکر اس لئے کیا گیا کہ تا ان کی بد بختی کے ملاحظہ سے مسلمانوں کو سبق حاصل ہو اور اس بات سے متنبہ رہیں کہ یہود، نصاری کی مانند بینات کو چھوڑ کر اور متشابہات میں پڑ کر ہلاک نہ ہو جائیں۔اور ایسی پیشگوئیوں کے بارے میں جو مامور من اللہ کے لئے پہلے سے بیان کی جاتی ہیں امید نہ رکھیں کہ وہ اپنے تمام پہلوؤں کے رو سے ظاہری طور پر ہی پوری ہوں گی بلکہ اس بات کے ماننے کے لئے تیار رہیں کہ قدیم سنت اللہ کے موافق بعض حصے ایسی پیشگوئیوں کے استعارات اور مجازات کے رنگ میں بھی ہوتے ہیں اور اسی رنگ میں وہ پوری بھی ہو جاتی ہیں مگر غافل اور سطحی خیال کے انسان ہنوز انتظار میں