تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 192

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۲ سورة ال عمران مفسد فرقہ پیدا ہوا اسی نبی کے بعض جلیل الشان وارثوں کو اس فساد کے فرو کرنے کے لئے حکم دیا گیا۔ ہاں ! اگر یہ فتنہ دجال کا حضرت مسیح کے عہد نبوت میں ہوتا تو اُن کا حق تھا کہ خود وہ یا کوئی اُن کے حواریوں اور خلیفوں میں سے اس فتنہ کوفرو کرتا مگر یہ کیا اندھیر کی بات ہے کہ یہ اُمت کہلا وے تو خیر الام مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں اس قدر نالائق اور نکمی ہو کہ جب کسی فتنہ کے دور کرنے کا موقع آوے تو اس کے دُور کرنے کے لئے کوئی شخص باہر سے مامور ہو اور اس اُمت میں کوئی ایسا لائق نہ ہو کہ اس فتنہ کو دور کر سکے ۔ گویا اس امت کی اس صورت میں وہ مثال ہوگی کہ مثلاً کوئی گورنمنٹ ایک نیا ملک فتح کرے جس کے باشندے جاہل اور نیم وحشی ہوں تو آخر اس گورنمنٹ کو مجبوری سے یہ کرنا پڑے کہ اس ملک کے مالی اور دیوانی اور فوجداری کے انتظام کے لئے باہر سے لائق آدمی طلب کر کے معزز عہدوں پر ممتاز کرے۔ سو ہرگز ! عقل سلیم قبول نہیں کر سکتی کہ جس امت کے ربانی علماء کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ علماء أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ یعنی میری امت کے علماء اسرائیلی پیغمبروں کی طرح ہیں اخیر پر ان کی یہ ذلت ظاہر کرے کہ دجال جو خدائے عظیم القدرت کی نظر میں کچھ بھی چیز نہیں اس کے فتنہ کے فرو کرنے کے لئے اُن میں مادہ لیاقت نہ پایا جائے ۔ اس لئے ہم اسی طرح پر جیسا کہ آفتاب کو دیکھ کر پہچان لیتے ہیں کہ یہ آفتاب ہے اس آیت كُنتُم خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کو پہچانتے ہیں اور اس کے یہی معنے کرتے ہیں کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِشَرِ النَّاسِ الَّذِي هُوَ الدَّجَّالُ الْمَعْهُودُ یادر ہے کہ ہر ایک امت سے ایک خدمت دینی لی جاتی ہے اور ایک قسم کے دشمن کے ساتھ اس کا مقابلہ پڑتا ہے سو مقدر تھا کہ اس اُمت کا دجال کے ساتھ مقابلہ پڑے گا جیسا کہ حدیث نافع بن عتبہ سے مسلم میں صاف لکھا ہے کہ تم دجال کے ساتھ لڑو گے اور فتح پاؤ گے۔ اگر چہ صحابہ دجال کے ساتھ نہیں لڑے مگر حسب منطوق آخَرِينَ مِنْهُم مسیح موعود اور اس کے گروہ کو صحابہ قرار دیا اب دیکھو اس حدیث میں بھی لڑنے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ( جو امت ہیں ) قرار دیا اور یہ نہ کہا کہ مسیح بنی اسرائیلی لڑے گا اور نزول کا لفظ محض اجلال اور اکرام کے لئے ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ اس پر فساد زمانہ میں ایمان عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْزُوْنَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللهُ ثُمَّ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللهُ ثُمَّ تَغْزُوْنَ الرُّوْمَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللهُ ۔ رواه مسلم (مشكوة شريف - باب الملاحم صفحه ۴۶۶ مطبع مجتبائی دهلی)