تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 185

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۵ سورة ال عمران لکھتے ہیں کہ اگر کوئی خواب میں حجر اسود کو بوسہ دے تو علوم روحانیہ اس کو حاصل ہوتے ہیں کیونکہ حجر اسود چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۰۰ حاشیه ) سے مراد منبع علم و فیض ہے۔( اس اعتراض کے جواب میں کہ آپ نے باوجود مقدرت کے حج نہیں کیا۔فرمایا :۔۔۔۔) عجیب حالت ہے کہ ایک طرف بد اندیش علماء مکہ سے فتوی لاتے ہیں کہ یہ شخص کافر ہے اور پھر کہتے ہیں کہ حج کے لئے جاؤ اور خود جانتے ہیں کہ جب کہ مکہ والوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا تو اب مکہ فتنہ سے خالی نہیں اور خدا فرماتا ہے کہ جہاں فتنہ ہو اُس جگہ جانے سے پر ہیز کرو۔سو میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیسا اعتراض ہے۔ان لوگوں کو سی بھی معلوم ہے کہ فتنہ کے دنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی حج نہیں کیا اور حدیث اور قرآن سے ثابت ہے کہ فتنہ کے مقامات میں جانے سے پر ہیز کرو۔یہ کس قسم کی شرارت ہے کہ مکہ والوں میں ہمارا کفر مشہور کرنا اور پھر بار بارحج کے بارے میں اعتراض کرنا۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۱۵) کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ جو خدمت خدا نے اول رکھی ہے اس کو پس انداز کر کے دوسرا کام شروع کر دیوے؟ یہ یا درکھنا چاہیے کہ عام لوگوں کی خدمات کی طرح ملہمین کی عادت کام کرنے کی نہیں ہوتی وہ خدا کی ہدایت اور راہ نمائی سے ہر ایک امر کو بجالاتے ہیں اگر چہ شرعی تمام احکام پر عمل کرتے ہیں مگر ہر ایک حکم کی تقدیم و تاخیر الہی ارادہ سے کرتے ہیں۔اب اگر ہم حج کو چلے جاویں تو گویا اس خدا کے حکم کی مخالفت کرنے والے ٹھہریں گے اور مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِیلا کے بارے میں کتاب سنج الکرامہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر نماز کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو حج ساقط ہے حالانکہ اب جو لوگ جاتے ہیں ان کی کئی نمازیں فوت ہو جاتی ہیں۔مامورین کا اوّل فرض تبلیغ ہوتا ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) ۱۳ سال مکہ میں رہے آپ نے کتنی دفعہ حج کیے تھے، ایک دفعہ بھی نہیں کیا تھا۔(البدرجلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۸ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۲۲) اس سوال کے جواب میں کہ ایک شخص حج کی نیت رکھتا تھا لیکن وہ اس نیت کے پورا کرنے سے پہلے فوت ہو گیا کیا اس کی طرف سے کوئی شخص حج کر سکتا ہے؟ فرمایا: جائز ہے،اس سے متوفی کو ثواب حج کا حاصل ہو جائے گا۔فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَن العلمين۔۔۔۔خدا کو تو کسی کی زندگی اور وجود کی حاجت نہیں وہ تو بے نیاز ( براہین احمد سیه، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۶۴ حاشیه ۱۱) خدا تعالی بوجہ استغناء ذاتی کے بے نیاز ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے: إِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ۔۔یعنی مطلق ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۱۸ مورخه ۲ رمئی ۱۹۰۷ صفحه ۲)