تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 183

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۳ سورة ال عمران ہے جیسے عاشق اپنے محبوب کے گرد طواف کرتا ہے اسی طرح حج میں بھی طواف رکھا ہے یہ ایک بار یک نکتہ ہے جیسا بیت اللہ ہے ایک اس سے بھی اوپر ہے جب تک اس کا طواف نہ کرو یہ طواف مفید نہیں اور ثواب نہیں۔ اس کے طواف کرنے والوں کی بھی یہی حالت ہونی چاہیے جو یہاں دیکھتے ہو کہ ایک مختصر سا کپڑا رکھ لیتے ہیں اسی طرح اس کا طواف کرنے والوں کو چاہیے کہ دنیا کے کپڑے اتار کر فروتنی اور انکساری اختیار کرے اور عاشقانہ رنگ میں پھر طواف کرے۔ طواف عشق الہی کی نشانی ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ گویا مرضات اللہ ہی کے گرد طواف کرنا چاہیے اور کوئی غرض باقی نہیں۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۹) ایک حج کے ارادہ کرنے والے کے لیے اگر یہ بات پیش آ جائے کہ وہ اس مسیح موعود کو دیکھ لے جس کا تیرہ سو برس سے اہل اسلام میں انتظار ہے تو بموجب نص صریح قرآن اور احادیث کے وہ بغیر اس کی اجازت کے حج کو نہیں جاسکتا۔ ہاں ! با جازت اس کے دوسرے وقت میں جاسکتا ہے۔ ( تذكرة الشهادتين ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه (۴۹) اصل میں جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں ان کی خدمت میں دین سیکھنے کے واسطے جانا بھی ایک طرح کا حج ہی ہے ۔ حج بھی خدا تعالیٰ کے حکم کی پابندی ہے اور ہم بھی تو اس کے دین اور اس کے گھر یعنی خانہ کعبہ کی حفاظت کے واسطے آئے ہیں ۔ الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۱۲) خانہ کعبہ کا پتھر یعنی حجر اسود ایک روحانی امر کے لئے نمونہ قائم کیا گیا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو نہ خانہ کعبہ بنا تا اور نہ اس میں حجر اسود رکھتا لیکن چونکہ اس کی عادت ہے کہ روحانی اُمور کے مقابل پر جسمانی امور بھی نمونہ کے طور پر پیدا کر دیتا ہے تا وہ روحانی امور پر دلالت کریں اسی عادت کے موافق خانہ کعبہ کی بنیاد ڈالی گئی ۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور عبادت دو قسم کی ہے؛ (۱) ایک تذلل اور انکسار (۲) دوسری محبت اور ایثار ۔ تذلل اور انکسار کے لئے اُس نماز کا حکم ہوا جو جسمانی رنگ میں انسان کے ہر ایک عضو کو خشوع اور خضوع کی حالت میں ڈالتی ہے یہاں تک کہ دلی سجدہ کے مقابل پر اس نماز میں جسم کا بھی سجدہ رکھا گیا تا جسم اور روح دونوں اس عبادت میں شامل ہوں اور واضح ہو کہ جسم کا سجدہ بیکار کا سجده بیکار اور لغو نہیں ۔ اول تو یہ امر مسلم ہے کہ خدا جیسا کہ روح کا پیدا کرنے والا ہے ایسا ہی وہ جسم کا بھی پیدا کرنے والا ہے اور دونوں پر اُس کا حق خالقیت ہے ماسوا اس کے جسم اور روح ایک