تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 181
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۱ سورة ال عمران اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَةَ مُبْرَكًا وَهُدًى الْعَلَمِينَ جبکہ بیت اللہ تمام عالم کے لیے ہدایت پانے کا ذریعہ ہوا تو اس میں صاف اشارہ ہے کہ وہ ایسے مرکز پر واقع ہے جس کی زبان تمام دنیا کی زبانوں سے مشارکت رکھتی ہے اور یہی ام الالسنہ ہونے کی حقیقت ہے۔ ( - من الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۳۳ حاشیه ) فَأَوْلى إلى أَنَّ الْعَرَبِيَّةَ سَبَقَتِ پر اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے جو عربی الْأَلْسِنَةَ وَأَحَاطَتِ الْأَمْكِنَةَ وَهِيَ أَوَّلُ تمام زبانوں پر سبقت لے گئی اور تمام مکانوں پر محیط غِذَاءِ لِلْنَاطِقِينَ فَإِنَّ الْبَيْتَ لَا يَخْلُوا ہے اور وہ بولنے والوں کی پہلی غذا ہے کیونکہ گھر لوگوں مِنْ فَجْمَعِ النَّاسِ وَالْمَجْمَعُ يَحْتَائج الی کے مجمع سے خالی نہیں ہوتا اور اور مجمع دفع حاجت اور باہم الْكَلَامِ لِدَفْعِ الْحَوَائِجِ وَالْإِسْتِيْنَاسِ فَإِنَّ اس پکڑنے کے لئے کلام کی طرف محتاج ہوتا ہے الْمُعَاشَرَةَ مَوْقُوفَةٌ عَلَى الْفَهْمِ وَالتَّفْهِيْمِ کیونکہ معاشرت فہم اور تفہیم پر موقوف ہے جیسا کہ كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى الزَّكِ الْفَهِيمِ ۔ من الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه (۲۳۳) زیرک اور فہیم پر یہ بات پوشیدہ نہیں ۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) فِيهِ ايْت بَيِّنَتْ مَّقَامُ ابْراهِيمَ ، وَ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنَّا وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ ۔ حج کا مانع صرف زادراہ نہیں اور بہت سے امور ہیں جو عند اللہ حج نہ کرنے کے لئے عذر صحیح ہیں چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہونا ہے اور نیز اُن میں سے وہ صورت ہے کہ جب راہ میں یا خود مکہ میں امن کی صورت نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۔ ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۱۵) اسلام نے ۔۔۔۔۔۔ محبت کی حالت کے اظہار کے لیے حج رکھا ہے، خوف کے جس قدر ارکان ہیں وہ نماز