تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 176
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۶ سورة ال عمران ایک تصوری صورت رکھتا ہے پس تو بہ کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ ان خیالات فاسد و تصورات بد کو چھوڑ دے مثلاً اگر ایک شخص کسی عورت سے کوئی ناجائز تعلق رکھتا ہو تو اسے تو بہ کرنے کے لیے پہلے ضروری ہے کہ اس کی شکل کو بدصورت قرار دے اور اس کی تمام خصائل رذیلہ کو اپنے دل میں مستحضر کرے کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے تصورات کا اثر بہت زبردست اثر ہے اور میں نے صوفیوں کے تذکروں میں پڑھا ہے کہ انہوں نے تصور کو یہاں تک پہنچایا کہ انسان کو بندر یا خنزیر کی صورت میں دیکھا۔ غرض یہ ہے کہ جیسا کوئی تصور کرتا ہے ویسا ہی رنگ چڑھ جاتا ہے پس جو خیالات بدلذات کا موجب سمجھے جاتے تھے ان کا قلع و قمع کرے۔ یہ پہلی شرط ہے۔ دوسری شرط ندم ہے یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا۔ ہر ایک انسان کا کانشنس اپنے اندر یہ قوت رکھتا ہے کہ وہ اس کو ہر برائی پر متنبہ کرتا ہے مگر بد بخت انسان اس کو معطل چھوڑ دیتا ہے پس گناہ اور بدی کے ارتکاب پر پشیمانی ظاہر کرے اور یہ خیال کرے کہ یہ لذات عارضی اور چند روزہ ہیں اور پھر یہ بھی سوچے کہ ہر مرتبہ اس لذت اور حظ میں کمی ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ بڑھاپے میں آ کر جبکہ قومی بیکار اور کمزور ہو جاویں گے ۔ آخر ان سب لذات دنیا کو چھوڑنا ہو گا پس جبکہ خود زندگی ہی میں یہ سب باتیں چھوٹ جانے والی ہیں تو پھر ان کے ارتکاب سے کیا حاصل؟ بڑا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو توبہ کی طرف رجوع کرے اور جس میں اول اقلاع کا خیال پیدا ہو یعنی خیالات فاسدہ و تصورات بیہودہ کو قلع و قمع کرے جب یہ نجاست اور نا پا کی نکل جاوے تو پھر نادم ہو اور اپنے کیے پر پشیمان ہو۔ تیسری شرط عزم ہے یعنی آئیندہ کے لیے مصمم ارادہ کر لے کہ پھر ان برائیوں کی طرف رجوع نہ کروں گا اور جب وہ مداومت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطا کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ سیئات اس سے قطعاً زائل ہو کر اخلاق حسنہ اور افعال حمیدہ اس کی جگہ لے لیں گے اور یہ فتح ہے اخلاق پر، اس پر قوت ر اور طاقت بخشنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے جیسے فرمایا أَنَّ الْقُوَّةَ لِلهِ جميعا ( البقرة : ١٦٦ ) ( رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۵۸،۱۵۷) تو بہ کے معنے ہی یہ ہیں کہ گناہ کو ترک کرنا اور خدا کی طرف رجوع کرنا ، بدی چھوڑ کر نیکی کی طرف آگے قدم بڑھانا، تو بہ ایک طرف (موت) کو چاہتی ہے جس کے بعد انسان زندہ کیا جاتا ہے اور پھر نہیں مرتا، تو بہ کے بعد انسان ایسا بن جاوے کہ گویا نئی زندگی پا کر دنیا میں آیا ہے نہ اس کی وہ چال ہو، نہ اس کی وہ