تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 175

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام وَ أُولَئِكَ هُمُ الضَّالُونَ ۱۷۵ سورة ال عمران تو بہ کا لفظ نہایت لطیف اور روحانی معنی اپنے اندر رکھتا ہے جس کی غیر قوموں کو خبر نہیں یعنی تو بہ کہتے ہیں اس رجوع کو کہ جب انسان تمام نفسانی جذبات کا مقابلہ کر کے اور اپنے پر ایک موت کو اختیار کر کے خدا تعالیٰ کی طرف چلا آتا ہے۔ سو یہ کچھ سہل بات نہیں ہے اور ایک انسان کو اُسی وقت تائب کہا جاتا ہے جبکہ وہ بکلی نفسِ امارہ کی پیروی سے دست بردار ہو کر اور ہر ایک تلخی اور ہر ایک موت خدا کی راہ میں اپنے لئے گوارا کر کے آستانہ حضرت احدیت پر گر جاتا ہے تب وہ اس لائق ہو جاتا ہے کہ اس موت کے عوض میں خدا تعالیٰ اُس کو زندگی بخشے ۔ ( قادیان کے آریہ اور ہم ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۴۸) تو بہ کے یہ معنی ہیں کہ انسان ایک بدی کو اس اقرار کے ساتھ چھوڑ دے کہ بعد اس کے اگر وہ آگ میں ساتھ خدا بھی ڈالا جائے تب بھی وہ بدی ہرگز نہیں کرے گا۔ پس جب انسان اس صدق اور عزم محکم کے ساتھ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو خدا اپنی ذات میں کریم و رحیم ہے وہ اس گناہ کی سزا معاف کر دیتا ہے اور یہ خدا کی اعلیٰ صفات میں سے ہے کہ تو بہ قبول کر کے ہلاکت سے بچا لیتا ہے اور اگر انسان کو تو بہ قبول کرنے کی امید نہ ہو تو پھر وہ گناہ سے باز نہیں آئے گا۔ عیسائی مذہب بھی تو بہ قبول کرنے کا قائل ہے مگر اس شرط سے کہ تو بہ قبول کرنے والا عیسائی ہو لیکن اسلام میں تو بہ کے لئے کسی مذہب کی شرط نہیں ہے۔ ہر ایک مذہب کی پابندی کے ساتھ تو بہ قبول ہو سکتی ہے اور صرف وہ گناہ باقی رہ جاتا ہے جو کوئی شخص خدا کی کتاب اور خدا کے رسول سے منکر رہے اور یہ بالکل غیر ممکن ہے کہ انسان محض اپنے عمل سے نجات پاسکے بلکہ یہ خدا کا احسان ہے کہ کسی کی وہ تو بہ قبول کرتا ہے اور کسی کو اپنے فضل سے ایسی قوت عطا کرتا ہے کہ وہ گناہ کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۹۰) تو بہ در اصل حصول اخلاق کے لیے بڑی محرک اور مؤید چیز ہے اور انسان کو کامل بنا دیتی ہے یعنی جو شخص اپنے اخلاق سیئہ کی تبد ملی چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ سچے دل اور پکے ارادے کے ساتھ تو بہ کرے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ تو بہ کے لیے تین شرائط ہیں۔ بدوں ان کی تکمیل کے سچی توبہ جسے تو بۃ النصوح کہتے ہیں حاصل نہیں ہوتی ان ہر سہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اقلاع کہتے ہیں یعنی ان خیالات فاسدہ کو دور کر دیا جاوے جو ان خصائل ردیہ کے محرک ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑا بھاری اثر پڑتا ہے کیونکہ حیطہ عمل میں آنے سے پیشتر ہر ایک فعل