تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 174
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۴ سورة ال عمران جاتے ہیں ۔ یہ ایک واقعی صداقت ہے۔ اسلام میں خاصیت ہے کہ سچائی سے اس پر قدم مارنے والے مکالمات خاصہ الہیہ سے مشرف ہو جاتے ہیں اور قبولیت کے انوار جن میں ان کا غیر ان کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتا ان کے وجود میں پیدا ہو مجموعه اشتہارات جلد اول صفحه (۱۵۵) یا درکھو کہ دنیا میں سچا مذہب جو ہر ایک غلطی سے پاک اور ہر ایک عیب سے منزہ ہے صرف اسلام ہے ( مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۵۹) یہی مذہب ہے جو انسان کو خدا تک پہنچاتا اور خدا کی عظمت دلوں میں بٹھاتا ہے۔ قرآن نے جو دین اسلام پیش کیا ہے جو شخص قرآنی تعلیم کو قبول نہیں کرے گا وہ مقبول خدا ہر گز نہ ہوگا اور مرنے کے بعد وہ زیاں کاروں میں ہوگا۔ مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۹۳ ) نجات اپنی کوشش سے نہیں بلکہ خدا کے فضل سے ہوا کرتی ہے اس فضل کے حصول کے لیے خدا تعالیٰ نے جو اپنا قانون ٹھہرایا ہوا ہے وہ کبھی باطل نہیں کرتا وہ قانون یہ ہے : إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : (۳۲) اور مَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ - البدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ صفحه (۳۱) جو شخص اسلام کے سواکسی اور دین کا خواست گار ہو وہ آخر کارٹوٹے میں رہے گا۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ ء صفحه ۲) اسلام کے سوا اور کوئی دین قبول نہیں ہو سکتا اور یہ نرا دعوی نہیں تاثیرات ظاہر کر رہی ہیں ۔ اگر کوئی اہل مذہب اسلام کے سوا اپنے مذہب کے اندر انوار و برکات اور تاثیرات رکھتا ہے تو پھر وہ آئے ہمارے ساتھ مقابلہ کرے اور ہم نے ہمیشہ ایسی دعوت کی ہے کوئی مقابلہ پر نہیں آیا۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۷ ارنومبر ۱۹۰۵ ء صفحہ ۷) كَيْفَ يَهْدِى اللهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَتُ وَاللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ ) یعنی انہوں نے رسول کے حق ہونے پر گواہی دی اور کھلے کھلے نشان ان کو پہنچ گئے۔ مکتوبات احمد جلد اول صفحہ ۱۲۸) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ