تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 174

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۴ سورة ال عمران اسلام میں خاصیت ہے کہ سچائی سے اس پر قدم مارنے والے مکالمات خاصہ الہیہ سے مشرف ہو جاتے ہیں اور قبولیت کے انوار جن میں ان کا غیر ان کے ساتھ شریک نہیں ہوسکتا ان کے وجود میں پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ ایک واقعی صداقت ہے۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۱۵۵) یا درکھو کہ دنیا میں سچا مذہب جو ہر ایک غلطی سے پاک اور ہر ایک عیب سے منزہ ہے صرف اسلام ہے یہی مذہب ہے جو انسان کو خدا تک پہنچاتا اور خدا کی عظمت دلوں میں بٹھاتا ہے۔(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۵۹) قرآن نے جو دین اسلام پیش کیا ہے جو شخص قرآنی تعلیم کو قبول نہیں کرے گا وہ مقبول خدا ہر گز نہ ہوگا اور مرنے کے بعد وہ زیاں کاروں میں ہوگا۔( مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۹۳ ) نجات اپنی کوشش سے نہیں بلکہ خدا کے فضل سے ہوا کرتی ہے اس فضل کے حصول کے لیے خدا تعالیٰ نے جو اپنا قانون ٹھہرایا ہوا ہے وہ کبھی باطل نہیں کرتا وہ قانون یہ ہے : إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي ود روو الله (آل عمران : ۳۲) اور مَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ - البدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۱ رنومبر ۱۹۰۲، صفحه ۳۱) جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا خواست گار ہو وہ آخر کارٹوٹے میں رہے گا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ صفحه ۲) اسلام کے سوا اور کوئی دین قبول نہیں ہوسکتا اور یہ نرا دعوی نہیں تاثیرات ظاہر کر رہی ہیں۔اگر کوئی اہل مذہب اسلام کے سوا اپنے مذہب کے اندر انوار و برکات اور تاثیرات رکھتا ہے تو پھر وہ آئے ہمارے ساتھ مقابلہ کرے اور ہم نے ہمیشہ ایسی دعوت کی ہے کوئی مقابلہ پر نہیں آیا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخہ ۷ ارنومبر ۱۹۰۵ صفحہ ۷) كَيْفَ يَهْدِى اللهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَ شَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنْتُ وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ۔۸۷ یعنی انہوں نے رسول کے حق ہونے پر گواہی دی اور کھلے کھلے نشان ان کو پہنچ گئے۔( مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ ۱۲۸) اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كَفْرًا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُم ج