تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 170
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۰ سورة ال عمران جیسا کہ یہ آیت بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ ( البقرة : ۱۱۳)۔اور جیسا کہ یہ آیت تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللَّا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِن دُونِ اللهِ - واضح ہو کہ قرآن شریف میں ان آیات کے ذکر کرنے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ بغیر اس کے جو رسول پر ایمان لایا جائے نجات ہو سکتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ بغیر اس کے کہ خدائے واحد لاشریک اور یوم آخرت پر ایمان لایا جاوے نجات نہیں ہو سکتی اور اللہ پر پورا ایمان تبھی ہوسکتا ہے کہ اُس کے رسولوں پر ایمان لاوے۔وجہ یہ کہ وہ اس کی صفات کے مظہر ہیں اور کسی چیز کا وجود بغیر وجود اُس کی صفات کے بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔لہذا بغیر علم صفات باری تعالیٰ کے معرفت باری تعالی ناقص رہ جاتی (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۷۲، ۱۷۳) ہے۔b وَدَّتْ طَائِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَب لَوْ يُضِلُّونَكُم وَمَا يُضِلُّونَ إِلاَ وود أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشعرون۔کہ ایک گروہ نے عیسائیوں اور یہودیوں میں سے یہ چاہا ہے کہ کسی طرح تم کو گمراہ کریں۔اور وہ تم کو تو۔کیا گمراہ کریں گے خود اپنے ہی نفسوں کو گمراہ کر رہے ہیں پر اپنی غلطی پر انہیں شعور نہیں۔براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۶۰ حاشیه ۱۱) يَاَهْلَ الْكِتَبِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقِّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَ اَنْتُم تعلمون۔لِمَ لَا تَتَجَافُونَ عَنِ الْإِستطاط في کیوں تم اس بات سے کنارہ نہیں کرتے کہ الہی کلمات کی تَحْرِيفِ كَلِمَاتِ اللهِ وَ انْتُمْ تَعْلَمُونَ آن تحریف میں حد سے زیادہ بڑھے جاتے ہو اور تم جانتے ہو الصَّدْقَ وَسِيْلَةُ الْفَلَاحِ وَ الْكَذِبَ مِن کہ سچائی نجات کا موجب اور جھوٹ تباہی کی علامت ہے أَثَارِ الطَّلَاحِ وَفِي الْتِزَامِ الْحَقِ نَبَاهَةٌ وَفِي اور حق کے اختیار کرنے میں نیک نامی اور جھوٹ کے اختیار اخْتِيَارِ الزُّوْرِ عَاهَةٌ، فَإِيَّاكُمْ وَطرُقَ کرنے میں آفت ہے سوتم کذابوں کا طریق چھوڑ دو۔پس الكَذَّابِيْنَ۔فَأَشَارَ اللهُ فِي هَذَا أَنَّ عُلَمَاءَ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا کہ نصاریٰ