تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 170

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۰ سورة ال عمران جیسا کہ یہ آیت بَلَى مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ ( البقرة : ١١٣)۔ :۱۱۳) ۔ اور جیسا کہ یہ آیت تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ - واضح ہو کہ قرآن شریف میں ان آیات کے ذکر کرنے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ بغیر اس کے جو رسول پر ایمان لایا جائے نجات ہو سکتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ بغیر اس کے کہ خدائے واحد لاشریک اور یوم آخرت پر ایمان لایا جاوے نجات نہیں ہو سکتی اور اللہ پر پورا ایمان تبھی ہو سکتا ہے کہ اُس کے رسولوں پر ایمان لاوے ۔ وجہ یہ کہ وہ اس کی صفات کے مظہر ہیں اور کسی چیز کا وجود بغیر وجود اُس کی صفات کے بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔ لہذا بغیر علم صفات باری تعالیٰ کے معرفت باری تعالیٰ ناقص رہ جاتی (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۷۲، ۱۷۳) ہے۔ وَدَّتْ طَائِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ کہ ایک گروہ نے عیسائیوں اور یہودیوں میں سے یہ چاہا ہے کہ کسی طرح تم کو گمراہ کریں۔ اور وہ تم کو تو کیا گمراہ کریں گے خود اپنے ہی نفسوں کو گمراہ کر رہے ہیں پر اپنی غلطی پر انہیں شعور نہیں۔ (براہین احمد یہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۶۰ حاشیه ۱۱) يَاَهْلَ الْكِتَبِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ وروور تعلمون ۔ لِمَ لا تَتَجَافُونَ عَنِ الْإِشْتِطَاطِ في کیوں تم اس بات سے کنارہ نہیں کرتے کہ الہی کلمات کی تَحْرِيفِ كَلِمَاتِ اللهِ وَ أَنْتُمْ تَعْلَمُونَ آن تحریف میں حد سے زیادہ بڑھے جاتے ہو اور تم جانتے ہو الصَّدْقَ وَسِيْلَةُ الْفَلَاحِ وَالْكَذِبَ مِنْ کہ سچائی نجات کا موجب اور جھوٹ تباہی کی علامت ہے اثَارِ الطَّلَاحِ وَفِي الْتِزَامِ الْحَقِّ نَبَاهَةٌ وَفِي اور حق کے اختیار کرنے میں نیک نامی اور جھوٹ کے اختیار اخْتِيَارِ الرُّورِ عَاهَةٌ، فَإِيَّاكُمْ وَطُرُقَ کرنے میں آفت ہے سو تم کذابوں کا طریق چھوڑ دو۔ پس الْكَذَّابِينَ فَأَشَارَ اللهُ فِي هَذَا أَنَّ عُلَمَاء اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا کہ نصاری