تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 169
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۹ سورة ال عمران پھر ان آیات سے یہ بھی ظاہر ہے کہ پہلے خدا تعالیٰ نے دلائل بینہ سے بخوبی عیسائیوں کو سمجھا دیا کہ عیسیٰ بن مریم میں کوئی خدائی کا نشان نہیں اور جب وہ باز نہ آئے تو پھر مباہلہ کے لئے درخواست کی اور نیز آیات موصوفہ بالا سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مسنون طریقہ مباہلہ کا یہی ہے کہ دونوں طرف سے جماعتیں حاضر ہوں۔ اگر جماعت سے کسی کو بے نیازی حاصل ہوتی تو اس کے اول مستحق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ مجموعه اشتہارات جلد اول صفحہ ۱۸۲، ۱۸۳) اس آیت میں لفظ الكذبين صاف ہمارے مدعا اور بیان کا شاہد ناطق ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ فرما کر ظاہر کرتا ہے کہ مباہلہ اسی صورت میں جائز ہے کہ جب فریقین ایک دوسرے کو عمداً دروغ بازیقین کرتے ہوں نہ یہ کہ صرف مخطی خیال کرتے ہوں ۔ مجموعه اشتہارات جلد اول صفحه ۱۸۲ حاشیه ) قُلْ يَاهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمُ الَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ) قرآنی تعلیم کا دوسرا کمال کمال تفہیم ہے۔ یعنی اس نے ان تمام راہوں کو سمجھانے کیلئے اختیار کیا ہے جو تصور میں آسکتے ہیں اگر ایک عامی ہے تو اپنی موٹی سمجھ کے موافق اس سے فائدہ اٹھاتا اور اگر ایک فلسفی ہے تو اپنے دقیق خیال کے مطابق اس سے صداقتیں حاصل کرتا ہے اور اس نے تمام اصول ایمانیہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کر کے دکھلا دیا ہے اور آیت : تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةِ میں اہل کتاب پر یہ حجت پوری کرتا ہے کہ اسلام وہ کامل مذہب ہے کہ زوائد اختلافی جو تمہارے ہاتھ میں ہیں یا تمام دنیا کے ہاتھ میں ہیں ۔ ان زوائد کو نکال کر باقی اسلام ہی رہ جاتا ہے جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۲۸۹) اگر چہ ہمارا ایمان ہے کہ نری خشک توحید مدار نجات نہیں ہو سکتی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے علیحدہ ہو کر کوئی عمل کرنا انسان کو ناجی نہیں بنا سکتا ۔ لیکن طمانیت قلب کے لئے عرض پرداز ہیں کہ عبد الحکیم خان نے جو آیات لکھی ہیں ان کا کیا مطلب ہے مثلاً : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَ النَّصْرِى وَالصَّبِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمُ (البقرۃ : ٦٣ ) اور