تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 160
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٦٠ سورة ال عمران جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ (سے) ثابت ہوتا ہے کہ دجال عیسائیوں کے سوا کوئی علیحدہ گروہ نہیں ہوگا کیونکہ جب غلبہ اور سلطنت قیامت تک عیسائیوں کے لئے مقدر ہے یا مسلمانوں کے لئے جو حقیقی متبع ہیں تو پھر کون ایماندار یہ گمان کر سکتا ہے کہ ایک اور شخص جو حضرت عیسی کا مخالف ہے اور ان کو نبی نہیں جانتا تمام زمین پر اپنا تسلط جمالے گا ؟ ایسا خیال تو نص صریح قرآن شریف کے مخالف ہے۔ ( تتمہ حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۵۶، ۴۵۷) ( قرآن نے ) تَوَفَّيْتَنِی فرمایا اور بخاری نے اپنا مذہب اور اس آیت کے معنے بیان کر دیئے کہ مُتَوَفِّيكَ : مميتك - تو پھر اس کے بعد خواہ مخواہ ان کو زندہ آسمان پر بٹھانا ان لوگوں کی کیسی غلطی ہے وہ بیچارہ تو خود بھی دہائی دیتا ہے کہ یہ لوگ میرے مرنے کے بعد بگڑے ہیں بھلا اب ہمیں کوئی بتادے کہ یہ لوگ ابھی بگڑے ہوئے ہیں یا نہیں؟ اگر یہ بگڑے ہیں تو مسیح وفات پاچکے ہیں۔ الحکم جلدے نمبر ۱۸ مؤرخہ ۷ ۱ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲) پہلا جھگڑا وفات مسیح کا ہی ہے ۔ کھلی کھلی آیات اس کی حمایت میں ہیں ۔ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ - وَرَافِعُكَ إِلَى پھر فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ ( المائدة : ۱۱۸ ) یہ عذر بالکل جھوٹا ہے کہ توفی کے معنی کچھ اور ہیں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ اور خود ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے معنی امانت کے کر دیئے ہیں۔ یہ لوگ بھی جہاں لفظ توفی استعمال کرتے ہیں تو معنی امانت اور قبض روح کے مراد لیتے ہیں۔ قرآن شریف نے بھی ہر ایک جگہ اس لفظ کے یہی معنے بیان کیے ہیں ۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۵۸۰) قرآن شریف تو رفع اختلاف کے لیے آیا ہے۔ اگر ہمارے مخالف رَافِعُكَ اِلَی کے یہ معنے کرتے ہیں کہ حضرت مسیح جسم سمیت آسمان پر چڑھ گئے تو وہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیا یہود کی یہ غرض تھی اور وہ یہ کہتے تھے کہ مسیح آسمان پر نہیں چڑھا ؟ اُن کا اعتراض تو یہ تھا کہ حضرت مسیح کا رفع الی اللہ نہیں ہوا۔ یعنی اُسے قُرب الی اللہ نصیب نہیں ہوا ۔ اگر رافِعُكَ اِلی اس اعتراض کا جواب نہیں، تو پھر چاہیے کہ اُن کے اس اعتراض کا جواب دیا اور دکھایا جائے ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۲۵ ، ۲۶ مورخه ۳۱ جولائی ۱۰ اگست ۱۹۰۴ صفحه (۱۳) فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَأَعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَ مَا لَهُم مِّنْ تُصِرِينَ وَ أَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ فَيُوَفِّيهِمُ