تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 155
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۵ سورة ال عمران نجات یافتہ نہیں ہیں؟ غرض اس قصہ میں اکثر لوگ حقیقت کو چھوڑ کر کہیں کے کہیں چلے گئے ہیں۔قرآن شریف ہرگز اس عقیدہ کی تعلیم نہیں کرتا کہ نجات کے لیے جسمانی رفع کی ضرورت ہے اور نہ یہ کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں۔قرآن نے کیوں اس قصہ کو چھیڑا ؟ اس کا فقط یہ سبب تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں میں روحانی طور پر رفع اور عدم رفع میں ایک جھگڑا تھا۔یہودیوں کو یہ حجت ہاتھ آگئی تھی کہ یسوع مسیح سولی دیا گیا ہے لہذا وہ توریت کے رو سے اس رفع کا جو ایمانداروں کا ہوتا ہے بے نصیب رہا۔اور اس سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ وہ سچا نبی نہیں ہے جیسا کہ اب بھی وہ سولی کا واقعہ بیان کر کے یہی مقام توریت کا پیش کرتے ہیں اور میں نے اکثر یہودیوں سے جو دریافت کیا تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ ہمیں جسمانی رفع سے کچھ غرض نہیں ہم تو یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ شخص توریت کے رو سے ایماندار اور صادق نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ سولی دیا گیا پس تو ریت فتوی دیتی ہے کہ اس کا رفع روحانی نہیں ہوا۔بمبئی اور کلکتہ میں بہت سے یہودی موجود ہیں جس سے چاہو پوچھ لو۔یہی جواب دے گا سو یہی وہ جھگڑا تھا جو فیصلہ کے لائق تھا۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان الفاظ سے اس جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ہے کہ: يُعِيسَى إِلَى مُتَوَفِيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى یعنی یہ کہ وفات کے بعد حضرت مسیح کا رفع ہوا ہے اور وہ ایمانداروں کے گروہ میں سے ہے، نہ ان میں سے جن پر آسمان کے دروازے بند ہوئے ہیں۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۳۸۶،۳۸۵) یہ تو بیچ ہے کہ وہ میرے متبعین کو قیامت تک میرے منکروں اور مخالفوں پر غلبہ دے گا لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ متبعین میں ہر شخص محض میرے ہاتھ پر بیعت کرنے سے داخل نہیں ہو سکتا۔جب تک اپنے اندر وہ اتباع کی پوری کیفیت پیدا نہیں کرتا متبعین میں داخل نہیں ہوسکتا۔پوری پوری پیروی جب تک نہیں کرتا، ایسی پیروی کہ گویا اطاعت میں فنا ہو جاوے اور نقش قدم پر چلے اس وقت تک اتباع کا لفظ صادق نہیں آتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسی جماعت میرے لیے مقدر کی ہے جو میری اطاعت میں فنا ہو اور پورے طور پر میری اتباع کرنے والی ہو۔(الحکم جلد ۱۰ نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۵) قرآن شریف کی آیت : يعنى اني متوفيك الخ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں کے مغضوب علیہم ہونے کی بڑی وجہ جس کی سزا ان کو قیامت تک دی گئی اور دائمی ذلت اور محکومیت میں گرفتار کیے گئے یہی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسی کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ کے نشان بھی دیکھ کر پھر بھی پورے عناد اور شرارت اور