تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 154

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۴ سورة ال عمران بے ادبی اور شوخی ہے۔میں کہتا ہوں کہ اس آیت کی ترتیب صحیح ہے اور اسی لئے اس کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسی ! میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا ہوں مگر یہ لوگ اس ترتیب کو غلط (معاذ اللہ ) ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رَافِعُكَ اِلَی کی جگہ رافِعُكَ إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ چاہیے اور اس کے بعد متوفيك چاہیے گویا کہ ان کے اعتقاد کے موافق خدا تعالی کو غلطی لگی اس نے کہنا تو یہ تھا يعيسى إلى رَافِعُكَ إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ وَمُتَوَفِّيكَ اور کہہ دیا، یہ جو آیت میں درج ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۷ ار ستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۵) قرآن شریف تو ہمیں بار بار یہ بتلاتا ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں، ہاں ! جو رفع ایماندارلوگوں کے لئے فوت کے بعد ہوا کرتا ہے وہ ان کے لئے بھی ہوا تھا جیسا کہ آیت : يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ اِلَی سے سمجھا جاتا ہے کیونکہ لفظ را فعک قرآن شریف میں لفظ مُتَوَفِّيكَ کے بعد مذکور ہے اور یہ قطعی قرینہ اس بات پر ہے کہ یہ وہ رفع ہے جو وفات کے بعد مومنوں کے لئے ہوا کرتا ہے اصل جڑھ اس کی یہ تھی کہ یہودی حضرت مسیح کے رفع روحانی کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ چونکہ وہ سولی دیئے گئے تھے تو بموجب حکم تو ریت کے وہ اس رفع سے بے نصیب ہیں جو مومنوں کو موت کے بعد خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے اور خدا کے قرب کے ساتھ ایک پاک زندگی ملتی ہے۔سو ان آیات میں یہودیوں کے اس خیال کا اس طرح پر رڈ کیا گیا کہ مسیح صلیب کے ذریعے قتل نہیں کیا گیا تھا اور اس کی موت صلیب پر نہیں روک پر ہوئی اس لئے وہ توریت کے اس حکم کے نیچے نہیں آسکتا کہ جو شخص سولی پر چڑھایا جاوے اس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوتا بلکہ وہ لعنتی ہو کر جہنم کی طرف جاتا ہے۔اب دیکھو کہ جسمانی رفع کا اس جگہ کوئی جھگڑا نہ تھا اور یہودیوں کا کبھی یہ مذہب نہیں ہوا اور نہ اب ہے کہ جو شخص سولی پر لٹکا یا جاوے اس کا جسمانی طور پر رفع نہیں ہوتا یعنی وہ مع جسم آسمان پر نہیں جاتا کیونکہ یہودیوں نے جو حضرت مسیح کے اس رفع کا انکار کیا جو ہر ایک مومن کے لیے موت کے بعد ہوتا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ یہودیوں اور نیز مسلمانوں کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ ایماندار کا فوت کے بعد خدا کی طرف رفع ہو جیسا کہ آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ (الاعراف : ۴۱) صریح دلالت کرتی ہے اور جیسا کہ ارجعي إلى رَبَّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (الفجر (٢٩) میں بھی یہی اشارہ ہے لیکن جسمانی رفع یہودیوں کے نزدیک اور نیز مسلمانوں کے نزدیک بھی نجات کے لئے شرط نہیں ہے جیسا کہ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کا جسمانی رفع نہیں ہوا تو کیا وہ یہودیوں کے نزدیک