تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 154
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اولد سورة ال عمران بے ادبی اور شوخی ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ اس آیت کی ترتیب صحیح ہے اور اسی لئے اس کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسی ! میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا ہوں مگر یہ لوگ اس ترتیب کو غلط ( معاذ اللہ ) ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رَافِعُكَ اِلی کی جگہ رَافِعُكَ إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ چاہیے اور اس کے بعد مُتَوَفِّيكَ چاہیے گویا کہ ان کے اعتقاد کے موافق خدا تعالیٰ کو غلطی لگی اس نے کہنا تو یہ تھا يُعِيسَى إِنِّي رَافِعُكَ إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ وَمُتَوَفِّيكَ اور کہہ دیا، یہ جو آیت میں درج ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۱۷ استمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۵) قرآن شریف تو ہمیں بار بار یہ بتلاتا ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں ، ہاں! جو رفع ایماندار لوگوں کے لئے فوت کے بعد ہوا کرتا ہے وہ ان کے لئے بھی ہوا تھا جیسا کہ آیت : يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ اِلَی سے سمجھا جاتا ہے کیونکہ لفظ رافِعُكَ قرآن شریف میں لفظ مُتَوَفِّيكَ کے بعد مذکور ہے اور یہ قطعی قرینہ اس بات پر ہے کہ یہ وہ رفع ہے جو وفات کے بعد مومنوں کے لئے ہوا کرتا ہے اصل جڑھ اس کی یہ تھی کہ یہودی حضرت مسیح کے رفع روحانی کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ چونکہ وہ سولی دیئے گئے تھے تو بموجب حکم توریت کے وہ اس رفع سے بے نصیب ہیں جو مومنوں کو موت کے بعد خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے اور خدا کے قرب کے ساتھ ایک پاک زندگی ملتی ہے۔سوان آیات میں یہودیوں کے اس خیال کا اس طرح پر رڈ کیا گیا کہ مسیح صلیب کے ذریعے قتل نہیں کیا گیا تھا اور اس کی موت صلیب پر نہیں ہوئی اس لئے وہ توریت کے اس حکم کے نیچے نہیں آ سکتا کہ جو شخص سولی پر چڑھایا جاوے اس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوتا بلکہ وہ لعنتی ہو کر جہنم کی طرف جاتا ہے۔ اب دیکھو کہ جسمانی رفع کا اس جگہ کوئی جھگڑا نہ تھا اور یہودیوں کا کبھی یہ مذہب نہیں ہوا اور نہ اب ہے کہ جو شخص سولی پر لڑکا یا جاوے اس کا جسمانی طور پر رفع نہیں ہوتا یعنی وہ مع جسم آسمان پر نہیں جاتا کیونکہ یہودیوں نے جو حضرت مسیح کے اس رفع کا انکار کیا جو ہر ایک مومن کے لیے موت کے بعد ہوتا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ یہودیوں اور نیز مسلمانوں کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ ایماندار کا فوت کے بعد خدا کی طرف رفع ہو جیسا کہ آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ (الاعراف : ۴۱) صریح دلالت کرتی ہے اور جیسا کہ ارجعي إلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً ( الفجر : ٢٩) میں بھی یہی اشارہ ہے لیکن جسمانی رفع یہودیوں کے نزدیک اور نیز مسلمانوں کے نزدیک بھی نجات کے لئے شرط نہیں ہے۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کا جسمانی رفع نہیں ہوا تو کیا وہ یہودیوں کے نزدیک