تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 153
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۳ سورة ال عمران رفع کے بعد ہوتی ہے یا پہلے اس تطہیر میں دراصل اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تیرے بعد ایک رسول آئے گا جو حکم ہو کر تیری نسبت جھگڑے کو فیصل کر دے گا اور جس قدر الزامات یہودی تجھ پر لگاتے ہیں ان سے تجھے پاک ٹھہرائے گا۔تین ترحمیوں کے تو یہ مخالف بھی قائل ہیں یعنی رَافِعُكَ إِلَى وَ مُطَهَرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِينَ كَفَرُوا۔یہ تو مانتے ہیں کہ مرتب کلام ہے اس میں جو کچھ وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ پورا ہو گیا۔جسمانی رفع کے قائل اس میں کچھ کہ نہیں سکتے مگر مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب تین ترتیوں کے وہ قائل ہیں اور انہوں نے اس کو تسلیم کر لیا ہے تو توفی کے لفظ کو اٹھانے کی بے فائدہ کوشش کیوں کرتے ہیں بھلا یہ یہودی سیرت اختیار کر کے بتاؤ تو سہی اس لفظ کو رکھو گے کہاں ؟ اگر رفع کے بعد رکھو تو واقعات خارجہ کے خلاف ہے رفع اور تطہیر میں فاصلہ نہیں ہے بلکہ رفع کے بعد تطہیر ہی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے اس الزام سے کہ وہ نبی بھی نہیں مانتے تھے اور ملعون قرار دیتے تھے اور عیسائی کہتے تھے کہ ابن اللہ اور اللہ ہیں جس کو آسمان پر اٹھایا گیا اور وہ ہمارے لئے ملعون ہوا، حضرت عیسی علیہ السلام کو بری کیا ہے، یہ دو انگلیوں کی طرح ہیں ان کو الگ کر سکتے ہی نہیں اور جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ کو دیکھو تو وہ قیامت تک مُطَهَّرُک کے بعد کسی دوسرے لفظ کو آنے ہی نہیں دیتا پھر اس کو رکھو گے تو کہاں رکھو گے؟ جس طرح پر واقعات ظہور میں آئے اسی طرز سے بیان کیا ہے اب الٹ پلٹ کر کہاں رکھ سکتے ہو؟ میں تو یہ کہتا ہوں کہ تمہیں خدا تعالیٰ کے کلام کے ساتھ اس قدر دشمنی کیوں ہے جو اس کی ترتیب کو توڑنا چاہتے ہو۔کیا تم کو یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کی خدائی ثابت کرو؟ عیسائیوں کے اس مردہ خدا کو کہیں تو ( الحکم جلد ۵ نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۱ء صفحه ۱) لعنت کی ضد رفع تو وہی ہے جس سے قرب الہی ہو۔یہ تو بجز موت کے حاصل نہیں ہوتا پھر جو لوگ ہمارے مخالف ہیں وہ چونکہ موت کے قائل نہیں اس لئے ان کے اعتقاد کے موافق مسیح کو ابھی رفع نہیں ہوا کیونکہ یہ رفع انسان کی آخری زندگی کا نتیجہ ہے اور یہ ان کو حاصل نہیں ہوا۔پس اس شق کے لحاظ سے تو ان کا آسمان پر چڑھنا باطل ہوا۔( الکام جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۲ صفحه ۵) یہ لوگ کہتے ہیں کہ آیت : يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ اِلی۔الآیة کی ترتیب جو قرآن شریف میں ہے صحیح نہیں ہے مگر میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے کلام کی نسبت ایسا اعتقاد رکھنا یا گمان کرنا خطرناک مرنے دو!!!