تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 152
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۲ سورة ال عمران مِنْ كَلَامِ الصُّوْفِيَّةِ لَا يَتَمَشَّى ظَاهِرُهُ إِلَّا معتزلہ اور فلاسفہ کے قواعد پر ہی چلتا ہے۔ پس کوئی عقل عَلَى قَوَاعِدِ الْمُعْتَزِلَةِ وَالْفَلَاسِفَةِ، فَالْعَاقِلُ مند شخص صرف اس وجہ سے کہ یہ علم کلام اُن ( معتزلہ ) لَا يُبَادِرُ إِلَى الْإِنْكَارِ بِمُجَرَّدِ عِزَاءِ ذَلِكَ سے منسوب ہونے کی وجہ سے اس کے انکار میں جلدی الْكَلَامِ إِلَيْهِمْ، بَلْ يَنْظُرُ وَيَتَأَمَّلُ في نہیں کرے گا۔ بلکہ وہ اُن کے ان دلائل پر پورا پورا غور أَدِلَّتِهِمْ ثُمَّ قَالَ وَرَأَيْتُ فِي رِسَالَةِ سَيِّدِی و خوض کرے گا۔ پھر وہ (امام شعرانی ) فرماتے ہیں کہ الشَّيْخِ مُحَمَّدٍ الْمَغْرِبِي الشَّاذِلِي اعْلَمْ أَنَّ سيدى الشيخ محمد المغر بی الشاذلی کے رسالہ میں میں نے طَرِيقَ الْقَوْمِ مَبْنِي عَلَى شُهُودِ الْإِثْبَاتِ، یہ دیکھا ہے۔ جان لو کہ قوم (صوفیاء ) کا ط کا طریق اثبات وَعَلَى مَا يَقْرُبُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعْتَزِلَةِ في حق کے یقین پر مبنی ہے اور بعض حالات میں معتزلہ کے بَعْضِ الْحَالَاتِ هَذَا مَا نَقَلْنَا مِنْ لَوَاقِح طریق سے قریب ہے۔ یہ ہم نے لواقح الانوار سے نقل الْأَنْوَارِ، فَتَدَبَّرُ كَالْأَخْيَارِ، وَلَا تُعْرِضُ کیا ہے ۔ پس برگزیدہ لوگوں کی طرح غور کر اور كَالْأَشْرَارِ، وَلَا تَخْتَرُ سَبِيلَ الْمُعْتَدِينَ۔ شریروں کی طرح اعراض نہ کر اور حد سے تجاوز کرنے اتمام الحجة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۷۵ تا ۲۸۰) | والوں کی راہ اختیار نہ کر ۔ ( ترجمہ از مرتب ) حضرت مسیح ( علیہ السلام ) جب صلیب پر چڑھائے گئے تو ان کو اندیشہ ہوا کہ یہ لوگ مجھے صلیبی موت سے ہلاک کرنے کے موجب ٹھہرے ہیں اور اس طرح پر یعنتی موت ہوگی اس ہلاکت کی گھڑی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو یہ بشارت دی کہ میں تجھے طبعی موت سے وفات دوں گا اور تجھے رفع کرنے والا ہوں اور تجھے پاک کرنے ولا ہوں اس آیت کا ایک ایک لفظ اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے مگر افسوس ! یہ لوگ کچھ بھی غور نہیں کرتے اور قرآن کریم کی ترتیب کو بدل کر تحریف کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہ تھا جو یوں کہہ دیتا کہ يُعِيسَى إِنِّي رَافِعُكَ إِلَى السَّمَاءِ پھر وہ کون سی دقت اور مشکل اس کو پیش آ گئی تھی جو يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ ہی کہا ؟ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه (۳) اس آیت میں جو ترتیب رکھی گئی ہے وہ واقعات کی بنا پر ہے، وہ احمق ہے جو کہتا ہے کہ ترتیب واؤ سے نہیں ہوتی ہے اگر ایسا ہی غبی ہے کہ وہ اس کو نہیں سمجھ سکتا تو اس کو واقعات پر نظر کرنی چاہئے اور دیکھئے کہ تطہیر