تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 148

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الد ٧ سورة ال عمران وَكَانَ سَيِّدَ الْمَعْصُومِينَ؛ فَاجْتَنِبُوا تمام معصوموں کا سردار ہے صلی اللہ علیہ وسلم پس اس قسم کے مِثْلَ هَذِهِ التَّعَصُّبَاتِ وَاذْكُرُوا تعصبات سے اجتناب کرو۔اے موت کے کیڑو! موت کو الْمَوْتَ يَا دُودَ الْمَمَاتِ، اتُتُرَكُونَ فِي یادرکھو! کیا تم سمجھتے ہو کہ ) تمہیں دنیا میں یونہی شاداں و فرحاں الدُّنْيَا فَرِحِينَ؟ فَاذْكُرُوا يَوْمًا چھوڑ دیا جائے گا۔ اُس دن کو یاد کرو جب اللہ تمہیں وفات يَتَوَفَّاكُمُ اللهُ ثُمَّ تُرْجَعُوْنَ إِلَيْهِ فُرَادَی دے گا پھر تم اُس کی طرف ایک ایک کر کے لوٹائے جاؤ فُرَادَى، وَلَا يَنْصُرُكُمْ مَنْ خَالَفَ الْحَقِّ گے۔ اور کوئی بھی حق کا مخالف اور دشمن تمہاری مدد نہ کر سکے وَعَادَى، وَتُسْأَلُونَ كَالْمُجْرِمِينَ۔ گا اور تم سے مجرموں کی طرح باز پرس کی جائے گی ۔ وَأَمَّا قَوْلُ بَعْضِ النَّاسِ مِنْ الْحَمْقى رہا بعض احمق لوگوں کا یہ قول کہ عیسی کا روحانی زندگی أَنَّ الْإِجْمَاعَ قَدِ انْعَقَدَ عَلَى رَفْعِ عِيسَی کے ساتھ نہیں بلکہ جسمانی زندگی کے ساتھ بلند آسمانوں کی إِلَى السَّمَاوَاتِ الْعُلى بِحَيَاتِهِ الْجِسْمَانِي طرف رفع پر اجماع ہو چکا ہے تو جان لے کہ یہ قول محض لَا بِحَيَاتِهِ الرُّوْحَانِي، فَاعْلَمُ أَنَّ هَذَا ایک لغو بات اور ایک گھٹیا سودا ہے جسے صرف جاہل ہی خرید الْقَوْلَ فَاسِدٌ وَ مَتَاعٌ كَاسِدٌ لا يَشْتَرِيهِ سکتا ہے ۔ اجماع سے مراد اجماع صحابہ ہے اور وہ اس إِلَّا مَنْ كَانَ مِنَ الْجَاهِلِينَ فَإِنَّ الْمُرَادَ عقیدہ میں ثابت نہیں ہے (حضرت ) ابنِ عباس نے مِنَ الْإِجْمَاعِ إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ، وَهُوَ مُتَوَفِّيكَ كے معنی میت کے کئے ہیں ۔ پس موت تو ثابت لَيْسَ بِثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْعَقِيدَةِ، وَقَدْ ہے خواہ تیرا بھوت اس کو قبول نہ کرے۔ اے وہ شخص جس قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُتَوَفِّيكَ هُمِيتك نے مجھے تکلیف دی ہے ! تم نے یہ سنا ہے کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی فَالْمَوْتُ ثَابِتٌ وَإِن لَّمْ يَقْبَلْ کی آیت دلالت قطعیہ اور واضح عبارت سے اس امر کی عِفْرِيتُكَ وَقَدْ سَمِعْتَ يَا مَنْ اذَيْتَنِي آن طرف رہنمائی کرتی ہے کہ جو وفات حضرت ابنِ عباس کی آيَةً فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي تَدُلُّ بِدَلَالَةٍ قَطْعِيَّةٍ تفسیر سے ثابت ہوتی ہے وہ وقوع پذیر ہوگئی اور پایہ تکمیل وَ عِبَارَةٍ وَاضِحَةِ أَنَّ الْإِمَانَةَ الَّتِي ثَبَتَتْ کو پہنچ گئی نہ یہ کہ وہ واقع ہونے والی ہے جیسا کہ بعض لوگوں مِنْ تَفْسِيرِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ وَقَعَت کا خیال ہے۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ نصاری نے اپنے ربّ وَتَمَّتْ وَلَيْسَ بِوَاقِع كَمَا ظَنَّ بَعْضُ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا ؟ اور کیا وہ قیدیوں کی طرح اس النَّاسِ أَفَأَنْتَ تَظُنُّ أَنَّ النَّصَارَى مَا کے دام میں گرفتار نہیں ہیں؟ اگر تم یہ اقرار کرتے ہو کہ وہ