تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 146
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۶ سورة ال عمران وَفَسُدَتِ الْعَقَائِدُ كُلُّهَا، وَنَزَلَتْ آفات اور دین پر آفات نازل ہوجائیں گی اور جب بھی کلام عَلَى الْمِلَّةِ والدين۔وَكُلُّ مَا وَقَعَ في كَلامِ عرب میں کوئی لفظ آئے تو ہم پر لازم ہے کہ اپنی طرف الْعَرَبِ مِن الْفَاظِ وَجَبْ عَلَيْنَا أَن لَّا سے اس کے معانی نہ گھڑیں اور قلیل ( الاستعمال ) معانی کو نَنْحَتَ مَعَانِيهَا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِنَا وَلا كثير ( الاستعمال ) معانی پر مقدم نہ کریں سوائے اس کے تقيّمَ الْأَقَلَّ عَلَى الأَكْثَرِ إِلَّا عِندَ قَرِيْنَةٍ کہ کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جو اہل معرفت کے نزدیک اُس تُوجِبُ تَقْدِيمَةَ عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ معنى کو مقدم کرنا واجب کر دے اور یہی طریق کار ہمیشہ وَكَذَلِكَ كَانَتْ سُنَنُ الْمُجْتَهِدِينَ مجتہدین کا رہا ہے۔وَلَمَّا تَفَرَّقَتِ الْأُمَّةُ على ثلاث اور جب امت مسالک کے لحاظ سے تہتر فرقوں میں بٹ وَسَبْعِينَ فِرْقَةٌ مِنَ الْمِلَّةِ، وَكُلٌّ زَعَمَ أَنَّهُ گئی اور ہر ایک نے یہ سمجھا کہ وہ اہل سنت میں سے ہے تو ان مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ، فَأَى مَخْرَجِ مِنْ هَذِهِ اختلافات سے نکلنے کی کون سی راہ ہے اور ان آفات سے الاخْتِلافَاتِ، وَآئی طَرِيقِ الْخَلاصِ مِن چھٹکارا حاصل کرنے کا اور کون سا طریق ہے سوائے اس کے کہ الْآفَاتِ مِنْ غَيْرِ أَنْ نَّعْتَصِمَ بِحَبْلِ الله ہم اللہ کی محکم رتی کو مضبوطی سے تھام لیں۔پس اے مومنوں الْمَتِينِ: فَعَلَيْكُمْ مَعَاشِرَ الْمُؤْمِنِینَ کے گرو ہو! تم پر فرقان (حمید) کی اتباع لازم ہے اور جس بِأَتْبَاعِ الْفُرْقَانِ، وَمَنْ تَبِعَهُ فَقَدْ نَجَا مِنْ نے اس کی اتباع کی تو وہ یقینا گھاٹے کی راہوں سے طرُقِ الْخُسْرَانِ فَفَكِّرُوا الْآنَ إِنَّ الْقُرْآن نجات پا گیا۔لہذا اب غور کرو کہ قرآن، مسیح کو مارتا ہے اور يَتَوَفَّى الْمَسِيحَ وَيُكَمِّلُ فِيْهِ الْبَيَانَ وَمَا اس کے بارہ میں اپنے بیان کو مکمل کرتا ہے اور کوئی حدیث بھی خَالَفَة حَدِيفٌ فِي هَذَا الْمَعْلى بَلْ فَشَرَةُ اِس معنی میں قرآن کی مخالف نہیں بلکہ وہ اس کی تفسیر کرتی وَزَادَ الْعِرْفَانَ، وَتَقْرَأُ فِي الْبُخَارِی اور عرفان بڑھاتی ہے۔تم بخاری ، عینی اور فضل الباری وَالْعَيْنِي وَفَضْلِ الْبَارِى اَنَّ التَّوَلّى هُوَ میں پڑھتے ہو کہ توفی کے معنی مارنے کے ہیں۔جیسا کہ الْإِمَاتَهُ، كَمَا شَهِدَ ابْنُ عَبَّاسِ بِتَوْضِيح (حضرت ابن عباس اور ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم) الْبَيَانِ، وَسَيْدُنَا الَّذِي إِمَامُ الإِنسِ نے جو تمام انس و جن کے امام اور نبی ہیں۔واضح بیان کے وَنَبِيُّ الْجَانِ، فَأَى أَمْرِ بَقِي بَعْدَهُ يَا مَعْشَرَ ساتھ اس کی شہادت دی ہے۔تو پھر اے بھائیو اور مسلمانوں الْإِخْوَانِ وَطَوَائِفَ الْمُسْلِمِينَ؟ کے گرو ہو! اس کے بعد اور کون سی بات باقی رہ جاتی ہے؟