تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 146

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۶ سورة ال عمران وَفَسُدَتِ الْعَقَائِدُ كُلُّهَا، وَنَزَلَتْ أَفَاتٌ اور دین پر آفات نازل ہو جائیں گی اور جب بھی کلام عَلَى الْمِلَّةِ وَالدِّينِ وَكُلُّ مَا وَقَعَ فِي كَلَامِ عرب میں کوئی لفظ آئے تو ہم پر لازم ہے کہ اپنی طرف الْعَرَبِ مِنْ الْفَاظِ وَجَبَ عَلَيْنَا أَن لَّا سے اس کے معانی نہ گھڑیں اور قلیل ( الاستعمال ) معانی کو نَنْحَتَ مَعَانِيهَا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِنَا، وَلَا كثير ( الاستعمال ) معانی پر مقدم نہ کریں سوائے اس کے نُقَدِّمَ الْأَقَلَّ عَلَى الْأَكْثَرِ إِلَّا عِنْدَ قَرِينَةٍ کہ کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جو اہلِ معرفت کے نزدیک اُس يُوجِبُ تَقْدِيمَهُ عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ معنى کو مقدم کرنا واجب کر دے اور یہی طریق کار ہمیشہ وَكَذلِكَ كَانَتْ سُنَنُ الْمُجْتَهِدِينَ۔ مجتہدین کا رہا ہے۔ وَلَمَّا تَفَرَّقَتِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثَ اور جب امت مسالک کے لحاظ سے تہتر فرقوں میں بٹ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً مِنَ الْمِلَّةِ، وَكُلُّ زَعَمَ أَنَّهُ گئی اور ہر ایک نے یہ سمجھا کہ وہ اہلِ سنت میں سے ہے تو ان مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ، فَأَى مَخْرَجَ مِنْ هَذِهِ اختلافات سے نکلنے کی کون سی راہ ہے اور ان آفات سے الْاِخْتِلَافَاتِ، وَأَيُّ طَرِيقِ الْخَلَاصِ مِن چھٹکارا حاصل کرنے کا اور کون سا طریق ہے سوائے اس کے کہ الْأَفَاتِ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَعْتَصِمَ بِحَبْلِ الله ہم اللہ کی محکم رسی کو مضبوطی سے تھام لیں ۔ پس اے مومنوں الْمَتِينِ فَعَلَيْكُمْ مَعَاشِرَ الْمُؤْمِنِينَ کے گرو ہو! تم پر فرقان (حمید ) کی اتباع لازم ہے اور جس بِأَتْبَاعِ الْفُرْقَانِ، وَمَنْ تَبِعَهُ فَقَدْ نَجَا مِنْ نے اس کی اتباع کی تو وہ یقینا گھاٹے کی راہوں سے طُرُقِ الْخُسْرَانِ فَفَكَّرُوا الْآنَ، إِنَّ الْقُرْآنَ نجات پا گیا ۔ لہذا اب غور کرو کہ قرآن ، مسیح کو مارتا ہے اور يَتَوَفَّى الْمَسِيحَ وَيُكَفِّلُ فِيْهِ الْبَيَانَ، وَمَا اس کے بارہ میں اپنے بیان کو مکمل کرتا ہے اور کوئی حدیث بھی خَالَفَهُ حَدِيثُ فِي هَذَا الْمَعْنَى بَلْ فَشَرَةُ اِس معنی میں قرآن کی مخالف نہیں بلکہ وہ اس کی تفسیر کرتی وَزَادَ الْعِرْفَانَ، وَتَقْرَأُ فِي الْبُخَارِی اور عرفان بڑھاتی ہے۔ تم بخاری ، عینی اور فضل الباری وَالْعَيْنِي وَفَضْلِ الْبَارِئُ اَنَّ التَّوَفَّى هُوَ میں پڑھتے ہو کہ توفی کے معنی مارنے کے ہیں ۔ جیسا کہ الْإِمَاتَةُ، كَمَا شَهِدَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِتَوْضِيح ( حضرت ) ابن عباس اور ہمارے آقا محمدصلی اللہ علیہ وسلم ) الْبَيَانِ، وَسَيِّدُنَا الَّذِي إِمَامُ الْإِنْسِ نے جو تمام انس و جن کے امام اور نبی ہیں۔ واضح بیان کے وَنَبِيُّ الْجَانِ، فَأَيُّ أَمْرٍ بَقِيَ بَعْدَهُ يَا مَعْشَرَ ساتھ اس کی شہادت دی ہے۔ تو پھر اے بھائیو اور مسلمانوں کے گرو ہو! اس کے بعد اور کون سی بات باقی رہ جاتی ہے؟ الْإِخْوَانِ وَطَوَائِفَ الْمُسْلِمِينَ؟