تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 145
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۵ سورة ال عمران كَانَ مِنَ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِنِيْنَ قَالُوا جبکہ ہمارے گزشتہ آباء و اجداد اس پر اعتقاد نہیں رکھتے كَيْفَ نَقْبَلُ وَلَمْ يَعْتَقِدُ بِهذَا آبَاؤُنَا تھے۔انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ محض ظلم، جھوٹ اور الْأَوَّلُونَ وَمَا قَالُوا إِلَّا ظُلْمًا وَزُورًا وَمِن افتراء ہے اور اُنہوں نے اسلاف اُمت کی آراء کا احاطہ الْفِرْيَةِ ولَمْ يُحِيطُوا أَرَاءَ سَلْفِ الْأُمَّةِ إِلَّا نہ کیا سوائے ان غلطی خوردہ لوگوں کے جو اُن سے زیادہ الَّذِينَ قَرَّبُوا مِنْهُمْ مِنَ الْمُخْطِئِينَ وَمَا قریب تھے اور انہوں نے صرف فیج آغونج کے اُن فَيْجِ أَغْوَنج تَبِعُوا إِلَّا الَّذِيْنَ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ مِنْ فَيْجِ لوگوں کی اتباع کی جو پہلے ہی گمراہ ہو گئے اور محروم قوم میں أَعْوَجَ وَمِنْ قَوْمٍ مَّحْجُوبِینَ فَمَا زَالُوا سے تھے۔وہ اُن لوگوں کے اقوال اختیار کرتے چلے گئے اخِذِينَ بِأَثَارِهِمْ حَتَّی حَصْحَصَ الْحَقُّ تا آنکہ حق واضح ہو گیا پھر اُن میں سے بعض نے تو پشیمان فَرَجَعَ بَعْضُهُمْ مُتَنَدِمِينَ۔وَأَمَّا الَّذِينَ ہو کر رجوع کر لیا۔البتہ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی طَبَعَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَمَا كَانُوا أَنْ يَقْبَلُوا تھی تو وہ نہ تو حق کوقبول کرنے والے ہوئے اور نہ ہی واعظین الْحَقِّ وَمَا نَفَعَهُمْ وَغظ الْوَاعِظِین کے وعظ نے انہیں کوئی فائدہ پہنچایا۔ہاں راسخ فی العلم وَالْعُلَمَاءُ الرَّاسِحُونَ يَبْكُونَ عَلَيْهِمُ علماء اُن کی حالت پر روتے ہیں اور انہیں ( ہلاکت کے ) وَيَجِدُوْنَهُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ نَّاثِمِينَ گڑھے کے کنارے پر سوئے ہوئے پاتے ہیں۔يَا حَسْرَةً عَلَيْهِمْ لِمَ لا يُفَكِّرُونَ في وائے حسرت اُن پر! وہ اپنے دلوں میں کیوں : انفُسِهِمْ أَنَّ لَفَظَ التَّوَى لفظ قَدِ اتَّضَحَ نہیں سوچتے کہ توفی کے لفظ کے معنے قرآنی شواہد مَعْنَاهُ مِنْ سِلْسِلَةِ شَوَاهِدِ الْقُرْآنِ، ثُمَّ کے تواتر ، انس و جن کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) نیز مِنْ تَفْسِيرِ نَبِي الْإِنْسِ وَنَبِي الْجَانِ، ثُمَّ آپ کے جلیل القدر صحابی کی تفسیر کے ذریعہ واضح ہو مِنْ تَفْسِيرِ صَحَابِي جَلِيْلِ الشَّانِ، وَمَنْ فَسَّرَ گئے ہیں اور جو قرآن کی من مانی تفسیر کرتا ہے وہ الْقُرْآنَ بِرَأيهِ فَهُوَ لَيْسَ بِمُؤْمِنٍ بَلْ هُو مؤمن نہیں بلکہ شیطان کا بھائی ہے۔اگر وہ فی الواقعہ آن الشَّيْطَانِ، فَأَى حُجَّةٍ أو ضَعُ مِنْ هَذَا مؤمن ہیں تو اس سے بڑھ کر اور کون سی دلیل واضح ہو سکتی إِن كَانُوا مُؤْمِنِينَ وَلَوْ جَازَ صَرف الفاظ ہے اور اگر الفاظ میں اُن کے مقصودہ، متواترہ معانی سے تَحكُما مِن الْمَعَانِي الْمُرَادَةِ الْمُتَوَاتِرَةِ از راه محکم تصرف کرنا جائز ہو تو پھر اخت اور شرع سے کلیاً لارْتَفَعَ الْآمَانُ عَنِ اللُّغَةِ وَالشَّرْعِ بِالْكَلْيَةِ امان اُٹھ جائے گی اور سب عقائد بگڑ جائیں گے اور ملت