تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 144

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۴ سورة ال عمران جَهَلَاتِهِ، وَ يَتَكَلَّمُونَ كَمَجَانِينَ - کتاب اللہ اور اُس کے واضح دلائل پر نگاہ نہیں ڈالتے اور وہ يَقُولُونَ إِنَّ لَفظَ التَّوَفَّى مَا وُضِعَ اُس شخص کی طرح سرگرداں ہیں جو اپنی جاہلانہ باتوں کا تابع لِمَعْنَى خَاضٍ بَلْ عَمَّتْ مَعَانِيهِ، وَمَا ہو اور پاگلوں جیسی گفتگو کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لفظ توفی أحْكِمَتْ مَبَانِيْهِ، وَكَذَلِكَ يَكِيدُونَ خاص معنی کے لئے وضع نہیں کیا گیا اس کے معانی عام ہیں اور كَالْمُفْتَرِينَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ إِنَّ هَذَا اس کی بنیادیں مضبوط نہیں اور وہ اس طرح مفتریوں کی اللَّفْظَ مَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ كِتَابِ اللهِ طرح فریب کرتے ہیں ۔ اور جب ان سے یہ کہا جائے کہ الرَّحْمَنِ إِلَّا لِلْإِمَا اتَةِ وَقَبْضِ الْأَرْوَاحِ رحمن خدا کی کتاب قرآن میں یہ لفظ جہاں بھی وارد ہوا ہے الْمَرْجُوعَةِ، لَا لِقَبْضِ الْأَجْسَامِ وہاں اس کے معنی صرف اور صرف مارنے اور دمِ واپسیں الْعُنْصُرِيَّةِ فَكَيْفَ تُصِرُونَ عَلی رُوح کے قبض کرنے کے ہوتے ہیں نہ کہ اجسامِ عُنصری مَعْنَى مَّا ثَبَتَ مِنْ كِتَابِ اللهِ وَبَيَانِ کے قبض کرنے کے۔ پھر تم کس طرح ان معنوں پر اصرار خَيْرِ الْمُرْسَلِينَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کرتے ہو جو کتاب اللہ اور خیرالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے وَسَلَّمَ : قَالُوا إِنَّا الْفَيْنَا آبَاءَنَا عَلی بیان سے ثابت نہیں ؟ تو وہ اس کے جواب میں کہتے ہیں عَقِيدَتِنَا وَلَسْنَا بِتَارِكِيهَا إِلى أَبَدِ کہ ہم نے تو اپنے آباء واجداد کو اپنے اس عقیدے پر پایا الْأَبِدِينَ۔ اور ہم اس کو ابد الآباد تک نہیں چھوڑ سکتے ۔ لله ثُمَّ إِذَا قِيلَ لَهُمْ إِنَّ خَاتَمَ پھر جب اُن سے کہا جائے کہ سب سے زیادہ سچے مفسر النَّبِيِّينَ وَاصْدَقَ الْمُفَسِرِينَ فَشَرَ خاتم النبین نے اس آیت کی تفسیر میں لفظ توفی یعنی توفیتینی هكَذَا لَفظَ التَّوَفَّى فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ کی یہی تفسیر کی ہے جیسا کہ اہل دانش پر مخفی نہیں اور حضرت الْآيَةِ، أَعْنِي تَوَفَّيْتَنِي، كَمَا لَا يَخْفى على ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا تتبع کیا ہے تا کہ وہ اس أَهْلِ الدِّرَايَةِ، وَتَبِعَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ طرح کے وسوسوں کی جڑ کاٹ دیں اور اُنہوں نے مُتَوَفِّيكَ لِيَقْطَعَ عِرْقَ الْوَسْوَاسِ، وَقَالَ کے معنے مُمِيتُكَ کے کئے ہیں ۔ تو پھر تم کیوں ان معنوں کو مُتَوَفِّيكَ يُمِيتُكَ، فَلِمَ تَتْرُكُونَ چھوڑتے ہو جو اول درجے کے معصوم نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) الْمَعْنَى الَّذِي ثَبَتَ مِنْ نَّبِي كَانَ أَوَّلَ سے اور آپ کے چچا زاد سے جو اعلیٰ پایہ کے صاحب رشد و الْمَعْصُومِينَ، وَمِنَ ابْنِ عَمِهِ الَّذِي ہدایت تھے ، ثابت ہیں؟ تو کہتے ہیں کہ ہم کیسے تسلیم کریں