تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 140
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۰ سورة ال عمران وَقَدْ ذَكَرْتُ أَيفًا أَنَّا لَوْ فَرَضْنَا عَلَی اور میں ابھی ذکر کر چکا ہوں کہ اگر ہم آیت یعینی سَبِيلِ التَّنَزُلِ وَقُلْنَا إِنَّ التَّوَفَّى هُهُنَا إِنِّي مُتَوَفِّيكَ میں عَلی سَبِیلِ التَّنزل لفظ توفی کے أَعْنِي فِي آيَةِ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ بِمَعْنَى معنے سلانے کے کر لیں تب بھی یہ ایک دوسری بات ہوگی الْإِنامَةِ لَكَانَتْ هَذِهِ الْوَاقِعَةُ وَاقِعَةً أُخْرَى اور اس سے استدلال کرنا مخالفین کو کوئی فائدہ نہیں دے وَلَا يَنْفَعُ الْإِسْتِدْلَالُ بِهَا قَوْمًا تُخَالِفِينَ گا۔ کیونکہ اس ساری گڑ بڑ سے مخالفین کا مقصد حضرت فَإِنَّ مَطْلُوبَ الْمُخَالِفِينَ مِنْ خَيْطِهِمْ أَن مسیح علیہ السلام کا مع جسم عنصری اٹھایا جانا ثابت کرنا يُثْبِتُوا رَفْعَ الْمَسِيحِ مَعَ جِسْمِهِ الْعَنْصُرِي ہے ۔ لیکن ان معنوں سے بھی انہیں یہ مقصد حاصل نہیں وَ لكِن لَّا يَحْصُلُ هَذَا الْمَطْلُوبُ مِنْ هَذَا ہوتا ۔ بلکہ ان کے مقصد کے خلاف نتیجہ نکلے گا۔ کیونکہ اس الْمَعْنَى بَلْ يَحْصُلُ مَا يُخَالِفُهُ فَإِنَّ مَعْنَی صورت میں آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ اے عیسی ! الْآيَةِ فِي هَذِهِ الصُّورَةِ يَكُونُ هَكَذَا يَا عِيسَی میں تیری روح قبض کرنے والا ہوں اور تیرے جسم کو إِنِّي قَابِضُ رُوحِكَ وَتَارِكُ جَسَدِكَ عَلَی زمین میں اس صورت میں چھوڑنے والا ہوں کہ روح الْأَرْضِ مَعَ بَقَاءِ عَلَاقَةٍ بَيْنِ الْجَسَدِ وَ اور جسم میں تعلق باقی رہے گا کیونکہ نیند روح کے قبض الرُّوحِ، فَإِنَّ النَّوْمَ عِبَارَةٌ عَنْ قَبْضِ کرنے اور جسم کے چھوڑ دینے کا نام ہے۔ دراں حالیکہ لو الرُّوحِ وَ تَرْكِ الْجَسَدِ مَعَ بَقَاءِ عَلَاقَتِهِمَا ان دونوں کے درمیان تعلق باقی رہتا ہے۔ اب دیکھا عَلَى وَجْهِ تَامٍ فَانْظُرُ أَنَّى يَحْصُلُ مَطْلُوبُ ان معنوں کی رو سے مخالفین کا مقصد کہاں حاصل ہوتا الْمُخَالِفِينَ مِنْ هَذَا الْمَعْنى؟ وَ أَيْنَ يَثْبُتُ ہے اور اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ مسیح علیہ السلام کا مِنْهُ رَفْعُ جَسَدِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جسم آسمان پر اٹھایا گیا بلکہ توفی کو اس کے غیر حل میں السَّمَاءِ ، بَلِ الْأَمْرُ بَقِيَ عَلَى حَالِهِ مَعَ حَمْلِ استعمال کرنے کے باوجود معاملہ جوں کا توں باقی مَعْنَى التَّوَفَّى عَلَى غَيْرِ فَحَلِهِ - (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدی صفحه (۲۶۵) رہے گا ۔ ( ترجمہ از مرتب ) وَقَدْ تَقْتَضِي حِكْمَةُ اللهِ تَعَالیٰ وَ دَقَائِقُ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی مصلحت کی مَصَالِحِهِ أَنَّهُ يَتَوَلَّى نَبِيًّا قَبْلَ مَجِي أَيَّامِ باریکیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ وہ نبی کو اس کی فتح فَتْحِهِ وَإِقْبَالِهِ، فَلَا يَتَوَّفَاهُ حَزِينًا يَائِسًا ، بَلْ اور اقبال کے زمانہ کے آنے سے قبل وفات دے دے