تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 131
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۱ سورة ال عمران يُكَفِّرُونَهُ وَلَا يَحْسَبُونَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَرَدَّ اللهُ تھے اور آپ کو مومن خیال نہیں کرتے تھے لہذا عَلَيْهِمْ فِي هَذِهِ الْآيَةِ - اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان لوگوں کے خیال (الاستفتاء، حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۴۵ حاشیہ) کی تردید کی ہے۔ (ترجمہ از مرتب ) فَانْظُرْ كَيْفَ شَهِدَ اللهُ عَلَى وَفَاتِهِ فِي كِتَابِهِ دیکھ خدا نے اپنی روشن کتاب میں اس کی الْمَسِيحِ الْمُبِينِ وَمَعْلُومٌ أَنَّ الرَّفْعَ وَتَطْهِيرَ ذَيْلِ وفات پر کیسی شہادت دی ہے اور ظاہر ہے کہ مسیح کا مِنْ الْزَامَاتِ الْيَهُودِ وَبُهْتَانَاتِهِمْ ، رفع اور اس کے دامن کا یہود کے الزاموں اور وَغَلَبَةَ أَهْلِ الْحَقِّ وَضَرْبَ الذِّلَّةِ عَلَى الْيَهُودِ بہتانوں سے پاک کرنا اور اہل حق کا غلبہ اور یہود وَجَعَلَهُمْ مَغْلُوبِينَ مَقْهُورِينَ تَحْتَ النَّصَارَى وَ پر ذلت کا چھا جانا اور نصاری اور مسلمانوں کے الْمُسْلِمِينَ ۔ لَقَدْ وَقَعَتْ هَذِهِ الْأَنْبَاءُ وَالْمَوَاعِيدُ نیچے مغلوب و مقہور ہونا یہ سب وعدے اپنی ترتیب كُلُّهَا وَتَمَّتْ وَظَهَرَتْ، وَمَا وَقَعَتْ إِلَّا عَلَى اور صورت پر پورے ظاہر ہو چکے ہیں ہیں اور ان کے صُورَتِهَا وَ تَرْتِيبِهَا، وَقَدِ انْقَضَتْ مُدَّةٌ طَوِيلَةٌ ظہور پر لمبا زمانہ گزر چکا ہے پس کوئی عاقل بالغ جو عَلَى ظُهُورِهَا وَوُقُوعِهَا، فَكَيْفَ يَعْتَقِدُ عَاقِل عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھتا ہو کب باور کر سکتا ہے کہ بَالِعٌ ذُو عَقْلٍ سَلِيمٍ وَفَهْمٍ مُسْتَقِيمٍ بِأَنَّ خَيْرَ توفی کا وعدہ جو آیت موصوفہ کی ترتیب میں سب التَّوَفَّى الَّذِي قُدِمَ عَلى هَذِهِ الْأَخْبَارِ فني وعدوں سے اول ہے وہ اب تک واقع نہ ہو اور عیسیٰ تَرْتِيبِ الْآيَةِ الْمَوْصُوفَةِ هُوَ غَيْرُ وَاقِع إلى بن مریم اس زمانہ تک بھی نہ مرے جو اس کی امت وَقْتِنَا هَذَا، وَمَا مَاتَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ إِلَى هَذَا کی ضلالتوں سے فاسد ہو چکا ہے بلکہ کسی غیر معلوم الزَّمَانِ الَّذِي فَسَدَ بِضَلَالَاتِ أُمَّتِهِ، بَلْ يَمُوتُ وقت میں نازل ہونے کے بعد مرے گا اور سوچنے بَعْدَ نُزُولِهِ فِي وَقْتِ غَيْرِ مَعْلُومٍ وَلَا يَخْفَى سَخَافَةُ والوں پر اس رائے کا ضعف اور فساد پوشیدہ هُذَا الرَّأْيِ عَلَى الْمُتَفَكِّرِينَ وَالْقَائِلُونَ بِحَيَاةِ نہیں۔ اور مسیح کی حیات کے قائلوں نے جب دیکھا الْمَسِيحِ لَمَّا رَأَوْا أَنَّ الْآيَةَ الْمَوْصُوفَةَ تُبَيِّن کہ آیت موصوفہ اس کی وفات کو بتصریح بیان بیان کرتی وَفَاتَهُ بِتَصْرِيح لَّا يُمْكِنُ إِخْفَاءُهُ جَعَلُوا ہے کہ جس کا اخفا ممکن نہیں تو ضعیف اور رکیک يُؤَوِّلُوْنَهَا بِتَأْوِيلَاتٍ رَكِيكَةٍ وَاهِيَةٍ، وَقَالُوا إِنَّ تاویلیں کرنے لگے اور کہتے ہیں کہ آیت یعنیکی لَفظَ التَّوَفَّى فِي آيَةِ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ كَانَ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ میں لفظ توفی فی الحقیقت ان سب