تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 129
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۹ سورة ال عمران 6 یہودیوں کے خیالات کا پورارڈ ہو جائے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۸۲ حاشیه ) جو لوگ اپنے خدا کی پوری محبت اور پوری اطاعت اختیار کرتے ہیں اور پورے صدق اور وفاداری سے اُس کے آستانہ پر جھکتے ہیں اُن کو خاص طور پر ایک کامل زندگی بخشی جاتی ہے اور ان کے فطرتی حواس میں بھی بہت تیزی عطا کی جاتی ہے اور ان کی فطرت کو ایک نور بخشا جاتا ہے جس نور کی وجہ سے ایک فوق العادت روحانیت اُن میں جوش مارتی ہے اور تمام روحانی طاقتیں جو دنیا میں وہ رکھتے تھے موت کے بعد بہت وسیع کی جاتی ہیں اور نیز مرنے کے بعد وہ اپنی خداداد مناسبت کی وجہ سے جو حضرت عزت سے رکھتے ہیں آسمان پر اٹھائے جاتے ہیں جس کو شریعت کی اصطلاح میں رفع کہتے ہیں۔ لیکن جو مومن نہیں ہیں اور جو خدا تعالیٰ سے صاف تعلقات نہیں رکھتے یہ زندگی ان کو نہیں ملتی اور نہ یہ صفات ان کو حاصل ہوتی ہیں۔ اس لئے وہ لوگ مردہ کے حکم میں ہوتے ہیں۔ چشمه سیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۷۲ حاشیه ) قرآن شریف سے تو صرف رفع الی اللہ ثابت ہے جو ایک روحانی امر ہے نہ رفع الی السماء اور یہودیوں کا اعتراض تو یہ تھا کہ جو شخص لکڑی پر لڑکا یا جاوے اُس کا رفع روحانی دوسرے نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف نہیں ہوتا اور یہی اعتراض دفع کرنے کے لائق تھا۔ پس قرآن شریف نے کہاں اس اعتراض کو دفع کیا ہے یعنی اس تمام نزاع کی بنیاد یہ تھی کہ یہودی کہتے تھے کہ عیسی مصلوب ہو گیا ہے اور جو شخص مصلوب ہو اُس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا اس لئے عیسی کا اور نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف رفع روحانی نہیں ہوا لہذا وہ مومن نہیں ہے اور نہ نجات یافتہ ہے اور چونکہ قرآن اس بات کا ذمہ دار ہے کہ پہلے جھگڑوں کا تصفیہ فرماوے لہذا اُس نے یہ فیصلہ فرمایا کہ عیسی کا بھی دوسرے نبیوں کی طرح رفع ہوا ہے۔ خدا نے تو ایک جھگڑے کا فیصلہ کرنا تھا۔ پس اگر خدا تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ فیصلہ نہیں کیا تو پھر بتلاؤ کہ کس مقام میں یہ فیصلہ کیا ؟ کیا نعوذ باللہ ! اس طرح کی بد نہی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہو سکتی ہے کہ جھگڑا تو یہود کی طرف سے روحانی رفع کا تھا اور خدا یہ کہے کہ عیسی مع جسم دوسرے آسمان پر بیٹھا ہے۔ ظاہر ہے کہ نجات کے لئے مع جسم آسمان پر جانا شرط نہیں صرف روحانی رفع شرط ہے۔ پس اس جگہ اس جھگڑے کے فیصلہ کے لئے یہ بیان کرنا تھا کہ نعوذ باللہ ! عیسی لعنتی نہیں ہے بلکہ ضرور رفع روحانی اس کو نصیب ہوا ہے۔ ماسوا اس کے قرآن شریف میں جو رفع کے پہلے توفی کا لفظ لایا گیا ہے یہ صریح اس بات پر قرینہ ہے کہ یہ وہ رفع ہے جو ہر ایک مومن کو موت کے بعد نصیب ہوتا ہے اور توفی کے یہ