تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 128
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۸ سورة ال عمران صحاح ستہ اور دوسری احادیث نبویہ پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام اور صحابہ کے کلام اور تابعین کے کلام اور تبع تابعین کے کلام میں کوئی ایک نظیر بھی ایسی نہیں پائی جاتی جس سے یہ ثابت ہو کہ کسی علم پر توفی کا لفظ آیا ہو یعنی کسی شخص کا نام لے کر توفی کا لفظ اس کی نسبت استعمال کیا گیا ہو اور خدا فاعل اور وہ شخص مفعول یہ ٹھہرایا گیا ہو اور ایسی صورت میں اس فقرہ کے معنے بجز وفات دینے کے کوئی اور کئے گئے ہوں بلکہ ہر ایک مقام میں جب نام لے کر کسی شخص کی نسبت تو ٹی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اس جگہ خدا فاعل اور وہ شخص مفعول یہ ہے جس کا نام لیا گیا ہے تو اس سے یہی معنے مراد لئے گئے ہیں کہ وہ فوت ہو گیا ہے۔چنانچہ ایسی نظیریں مجھے تین سو سے بھی زیادہ احادیث میں ملیں۔جن سے ثابت ہوا کہ جہاں کہیں توفی کے لفظ کا خدا فاعل ہو اور وہ شخص مفعول یہ ہو جس کا نام لیا گیا ہے تو اس جگہ صرف مار دینے کے معنے ہیں نہ اور کچھ ، مگر باوجود تمام تر تلاش کے ایک بھی ایسی حدیث مجھے نہ ملی جس میں توفی کے فعل کا خدا فاعل ہو اور مفعول یہ علم ہو یعنی نام لے کر کسی شخص کو مفعول یہ ٹھہرایا گیا ہو اور اس جگہ بجز مار نے کے کوئی اور معنے ہوں۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۷۹،۳۷۸) علامہ زمخشری آیت إلى مُتَوَفیت کے یہی معنے کرتا ہے کہ إلى ممننك خلف الفك۔یعنی اے عیسی ! میں تجھے طبعی موت ماروں گا۔حشف لغت عرب میں موت کو کہتے ہیں اور آنف کہتے ہیں ناک کو۔اور عربوں میں قدیم سے یہ عقیدہ چلا آتا ہے کہ انسان کی جان ناک کی راہ سے نکلتی ہے۔اس لئے طبعی موت کا نام انہوں نے حتف انف رکھ دیا۔اور عربی زبان میں توفی کے لفظ کا اصل استعمال طبعی موت کے محل پر ہوتا ہے اور جہاں کوئی شخص قتل کے ذریعہ سے ہلاک ہو وہاں قتل کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور یہ ایسا محاورہ ہے کہ جو کسی عربی دان پر پوشیدہ نہیں۔ہاں! یہ عرب کے لوگوں کا قاعدہ ہے کہ کبھی ایسے لفظ کو کہ جو اپنی اصل وضع میں استعمال اس کی کسی خاص محل کے لئے ہوتا ہے ایک قرینہ قائم کر کے کسی غیر محل پر بھی مستعمل کر دیتے ہیں یعنی استعمال اس کا وسیع کر دیتے ہیں اور جب ایسا قرینہ موجود نہ ہو تو پھر ضروری ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں وہ لفظ اپنی اصل وضع پر استعمال پاوے۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۸۱) چونکہ یہودیوں کے عقیدہ کے موافق کسی نبی کا رفع روحانی طبعی موت پر موقوف ہے اور قتل اور صلیب رفع روحانی کا مانع ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اول یہود کے رڈ کے لئے یہ ذکر فرمایا کہ عیسی کے لئے طبعی موت ہوگی اور پھر چونکہ رفع روحانی طبعی موت کا ایک نتیجہ ہے اس لئے لفظ مُتَوَفِّيكَ کے بعد رَافِعُكَ إِلَى لکھ دیا۔تا