تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 127
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۷ سورة ال عمران رکھنے سے یہ تمام مصیبتیں ان پر پڑیں۔ مولویوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ خدا تعالیٰ نے آج سے سولہ برس پہلے الہام مندرجہ براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام عیسی رکھا ہے، کیا انسان اتنا لمبا منصوبہ کر سکتا ہے کہ جو افتر اسولہ برس کے بعد کرنا تھا اس کی تمہید اتنی مدت پہلے ہی جمادی اور خدا نے بھی اس قدر لمبی مہلت دے دی جس کی دنیا میں جب سے دنیا شروع ہوئی کوئی نظیر نہیں پائی جاتی۔ والسلام علی من اتبع الهدی۔ (ضیاء الحق ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۰۸) باد معلوم رہے کہ زبان عرب میں لفظ توفی صرف موت دینے کو نہیں کہتے بلکہ طبعی موت دینے کو کہتے ہیں جو بذریعہ قتل و صلیب یا دیگر خارجی عوارض سے نہ ہو ۔ اسی لئے صاحب کشاف نے جو علامہ لسان عرب ہے اس مقام میں تفسیر اني مُتَوَفِّيكَ میں لکھا ہے کہ اني مميتُكَ حَتْفَ انْفِكَ یعنی میں تجھے طبعی موت دوں گا ۔ اسی بناء پر لسان العرب اور تاج العروس میں لکھا ہے ۔ توفى الْمَيِّتِ : اسْتِيْفَاءُ مُدَّتِهِ الَّتِي وُفِيَتْ لَهُ وَ عَدَدِ أَيَّامِهِ وَ شُهُورِهِ وَ أَعْوَامِهِ فِي الدُّنْيَا - یعنی مرنے والے کی توفی سے مراد یہ ہے کہ اس کی طبعی زندگی کے تمام دن اور مہینے اور برس پورے کئے جائیں اور یہ صورت اُسی حالت میں ہوتی ہے جب طبعی موت ہو بذریعہ قتل نہ ہو۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد جلد ۲۱ ۲۱ صفحه ۳۷۷ حاشیہ ) اس جگہ اس بات پر ضد کرنا بے فائدہ ہے کہ توفی کے معنے مارنا نہیں۔ کیونکہ اس بات پر تمام آئمہ لغت عرب اتفاق رکھتے ہیں کہ جب ایک علم پر یعنی کسی شخص کا نام لے کر توفی کا لفظ اُس پر استعمال کیا جائے مثلاً کہا جائے توفی الله زیدا تو اس کے یہی معنے ہوں گے کہ خدا نے زید کو مار دیا۔ اسی وجہ سے ائمہ لغت ایسے موقع پر دوسرے معنے لکھتے ہی نہیں ، صرف وفات دینا لکھتے ہیں ۔ چنانچہ لسان العرب میں ہمارے بیان کے مطابق یہ فقرہ ہے : تُوُفِّيَ فَلَانٌ وَ تَوَفَّهُ اللهُ إِذَا قَبَضَ نَفْسَهُ وَفِي الصِّحَاحِ إِذَا قَبَضَ رُوحَة ۔ یعنی جب یہ بولا جائے گا کہ تُوفِّيَ فَلَان یا یہ کہا جائے گا تَوَفَّهُ الله تو اس کے صرف یہی معنے ہونگے کہ فلاں شخص مر گیا اور خدا نے اُس کو مار دیا۔ اس مقام میں تاج العروس میں یہ فقرہ لکھا ہے: توفي فلان إِذَا مَاتَ یعنی تُوفي فلان اس شخص کی نسبت کہا جائے گا جب وہ مر جائے گا۔ دوسرا فقرہ تاج العروس میں یہ لکھا ہے : تَوَفَّاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِذَا قَبَضَ نَفْسَهُ یعنی یہ فقره که تَوَفَّاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ اس مقام میں بولا جائے گا۔ جب خدا کسی کی روح قبض کرے گا اور صحاح میں لکھا ہے : تَوَفَّهُ اللهُ قَبَضَ رُوحَۂ یعنی اس فقرہ تَوَفَّہ اللہ کے یہ معنے ہیں کہ فلاں شخص کی روح کو خدا تعالیٰ نے قبض کر لیا ہے اور میں نے جہاں تک ممکن تھا -