تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 126
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۶ سورة ال عمران دن تک اس کا دامن لمبا ہے۔پس اس صورت میں توفی کا لفظ اگر آیت کے سر پر سے اٹھا دیا جائے تو اس کو کسی دوسرے مقام میں قیامت سے پہلے رکھنے کی کوئی جگہ نہیں۔سو اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام قیامت کے بعد مریں گے اور پہلے مرنے سے یہ ترتیب مانع ہے۔اب دیکھنا چاہیئے کہ قرآن شریف کی یہ کرامت ہے کہ ہمارے مخالف یہودیوں کی طرح قرآن شریف کی تحریف پر آمادہ تو ہوئے مگر قادر نہیں ہو سکے اور کوئی جگہ نظر نہیں آتی جہاں فقرہ رافعک کو اپنے مقام سے اُٹھا کر اُس جگہ رکھا جائے۔ہر ایک جگہ کی خانہ پری ایسے طور سے ہو چکی ہے کہ دست اندازی کی گنجائش نہیں اور دراصل یہی ایک آیت یعنی آیت يُعيسى الى مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى طالب حق کے لئے کافی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ رفع جس پر ہمارے مخالفوں نے شور مچارکھا ہے وہ موت کے بعد ہے نہ موت سے پہلے کیونکہ خدا کی گواہی سے یہ بات ثابت ہے اور خدا کی گواہی کو قبول نہ کرنا ایماندار کا کام نہیں اور جب کہ بموجب نص قرآن رفع موت کے بعد ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ یہ وہی رفع ہے جس کا ہر ایک ایماندار کے لئے مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۷ ۳۴ تا ۳۴۹) اے عیسی ! میں تجھے طبعی موت دوں گا یعنی قتل اور صلیب کے ذریعہ سے تو ہلاک نہیں کیا جائے گا اور میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا پس یہ آیت تو بطور ایک وعدہ کے تھی۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۷ ۳۷۸،۳۷) مومن وہ ہوتا ہے جو دوسرے کے حال سے عبرت پکڑے۔اگر نزول کا لفظ احادیث میں موجود ہے تو موت عیسی کے الفاظ قرآن اور حدیث دونوں میں موجود ہیں اور توفی کے معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے بجز مار دینے کے اور ثابت نہیں ہوئے۔پس جب اصل مسئلہ کی حقیقت یہ کھلی تو نزول اس کی فرع ہے اس کے وہی معنے کرنے چاہئیں جو اصل کے مطابق ہوں۔اگر تمام دنیا کے مولوی متفق ہو کر آیت يعيسى إني مُتَوَفِّيكَ اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنى میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی صحابی سے بجز مار دینے کے کوئی اور معنے ثابت کرنے چاہیں تو ان کے لئے ہر گز ممکن نہیں۔اگر چہ اس غم میں مر جائیں۔اسی وجہ سے امام ابن حزم اور امام مالک اور امام بخاری اور دوسرے بڑے بڑے اکابر کا یہی مذہب ہے که در حقیقت حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں۔افسوس کہ جاہل مولویوں نے ناحق شور مچایا اور آخر حضرت عیسی کی موت ثابت ہی ہوئی جس کے ثبوت سے وہ ایسے نادم ہوئے کہ بس مر گئے۔جی اللہ پر کم توجہ