تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 119

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١١٩ سورة ال عمران بعد اپنی طرف اُٹھاؤں گا یعنی تیرے برگزیدہ اور صادق ہونے کے بارے میں آثار قویہ اور جلسیہ ظاہر کروں گا اور اس قدر دنیا میں تیرا ذکر خیر باقی رہ جائے گا کہ یہ ثابت ہو جائے گا کہ تو خدا کا مقرب ہے اور اس کے حضرت قدس میں بلایا گیا ہے اور جو الزام تیرے پر لگائے جاتے ہیں اُن سب سے تیرا پاک دامن ہونا ثابت کر دوں گا اور تیرے تابعین کو جو تیری صحیح صحیح تعلیم کی پیروی کریں گے حجت اور برہان کے رُو سے قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور نیز تیرے مخالفوں اور گالیاں دینے والوں پر ذلت ڈالوں گا وہ ہمیشہ ذلت سے عمر بسر کریں گے۔درحقیقت خدا تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کے پردے میں ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دے کر ایک بشارت دی ہے جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جو تیرے مارنے کے درپے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ نور دُنیا میں نہ پھیلے یہ تمام نامرادر ہیں گے۔اور عیسی مسیح کی طرح پر تنگی کے وقت میں خدا تیری نصرت کرے گا اور دشمنوں کے شر سے تجھے بچائے گا اور تیرے پر بہت الزام لگائے جائیں گے لیکن خدا تعالیٰ تمام الزاموں سے تجھے پاک کرے گا اور قیامت تک تیرے گروہ کو غلبہ بخشے گا اور یہ فقرہ جو آیت موصوفہ بالا میں ہے کہ : مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا اِس میں یہ اشارہ ہے کہ جس طرح جب مسیح علیہ السلام پر یہودیوں اور عیسائیوں نے بہت سے الزام لگائے تو حضرت مسیح کو وعدہ دیا گیا کہ خدا تعالیٰ تیرے بعد ایک نبی پیدا کرے گا جوان تمام الزامات سے تیرے دامن کا پاک ہونا ثابت کر دے گا۔ایسا ہی تیری نسبت خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ آخری زمانہ میں جبکہ دشمنوں کی نکتہ چینی اور عیب گیری کمال کو پہنچ جائے گی تیری تصدیق کے لئے تیری ہی اُمت میں سے ایک شخص جو مسیح موعود ہے پیدا کیا جائے گا وہ تیرے دامن کو ہر ایک الزام سے پاک ثابت کر دے گا اور تیرے معجزات تازہ کرے گا اور اس پیشگوئی میں یہ بھی اشارہ ہے کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتل نہیں ہوں گے اور آپ کا رفع الی السماء اپنی نبوت کے رُو سے آفتاب کی طرح چمکے گا کیونکہ ہزار ہا اولیاء اس اُمت میں پیدا ہوں گے اور اس پیشگوئی میں صاف لفظوں میں بتلایا گیا ہے کہ حضرت مسیح اُس زمانہ سے پہلے وفات پا جائیں گے جبکہ وہ رسول مقبول ظاہر ہوگا جو مخالفوں کے اعتراضات سے اُن کے دامن کو پاک کرے گا۔کیونکہ اس آیت کریمہ میں لفت نشر مرتب ہے۔پہلے وفات کا وعدہ ہے پھر رفع کا پھر تطہیر کا اور پھر یہ کہ خدا تعالیٰ اُن کے متبعین کو ہر ایک پہلو سے غلبہ بخش کر مخالفوں کو قیامت تک ذلیل کرتا رہے گا۔اگر اس ترتیب کا لحاظ نہ رکھا جائے تو اس میں بڑی خرابی یہ ہے کہ