تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 118
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا گیا حضرت عیسی کی موت ثابت ہو گئی۔۱۱۸ سورة ال عمران امام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۵۴ حاشیه ) بخاری میں عبداللہ بن عباس کے قول سے ثابت ہو چکا ہے کہ يُعيسى إلى مُتَوَفِّيكَ کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسی ! میں تجھے وفات دوں گا۔چنانچہ امام بخاری نے اسی مقام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث لکھ کر جس میں كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ہے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہی معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئے ہیں۔پھر بعد اس کے جو حضرت عیسی کی وفات کے بارے میں قرآن نے فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور عبد اللہ بن عباس کے قول میں بھی یہی آیا دوسرے معنے کرنے یہودیوں کی طرح ایک خیانت ہے۔غور کر کے دیکھ لو کہ تمام قرآن میں بجز روح قبض کرنے کے توفی کے اور کوئی معنے نہیں۔تمام حدیثوں میں بجز مارنے کے اور کسی محل میں توفی کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔تمام لغت کی کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ جب خدا تعالیٰ فاعل ہو اور کوئی انسان مفعول یہ مثلاً یہ قول ہو کہ توَفَّى الله زيدا تو بجز روح قبض کرنے اور مارنے کے اور کوئی معنے نہیں لئے جاویں گے۔پس جب اس صراحت اور تحقیق سے فیصلہ ہو چکا کہ توفی کے معنے مارنا ہے اور آیت فَلَنا توقيتَنِي (المائدة : ۱۱۸) سے ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسی کی توفی عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے ہو چکی ہے یعنی وہ خدا بنائے جانے سے پہلے فوت ہو چکے ہیں تو پھر اب تک اُن کی وفات کو قبول نہ کرنا یہ طریق بحث نہیں بلکہ بے حیائی کی قسم ہے۔خدا تعالیٰ نے چونکہ ان لوگوں کو ذلیل کرنا تھا کہ جو خواہ مخواہ حضرت عیسی کی حیات کے قائل ہیں اس لئے اُس نے نہ ایک پہلو سے بلکہ بہت سے پہلوؤں سے حضرت عیسی کی موت کو ثابت کیا۔توفی کے لفظ سے موت ثابت ہوئی اور پھر آیت وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُول : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران : ۱۴۵) سے موت ثابت ہوئی۔اور پھر آیت مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( المائدة : ۷۶) سے موت ثابت ہوئی پھر قرآن شریف کی آیت فيها تحيونَ (الاعراف : ۲۶) سے موت ثابت ہوئی اور پھر قرآن شریف کی آیت وَ لَكُم في الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ (البقرة : ٣٧) سے موت ثابت ہوئی کیونکہ ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ آسمان پر جسمانی زندگی اور قرار گاہ کسی انسان کا نہیں ہو سکتا۔(ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۸۳ تا ۳۸۵) اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کا وہ فضل اور کرم یاد کر جو اس نے عیسیٰ علیہ السلام پر کیا اور عیسی علیہ السلام کو یہ بشارت دی کہ اے عیسی ! میں تجھے موت سے وفات دوں گا یعنی تو مصلوب نہیں ہوگا اور تجھے وفات کے