تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 114
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سچے نبی کو بغیر شہادت کے نہ چھوڑا۔ ۱۱۴ سورة ال عمران (سراج منیر، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۴۶ تا ۴۸) یہ وعدہ اس عاجز کو بھی دیا گیا کہ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ چنانچہ اسی آیت کو بطور الہام اس عاجز کے حق میں بھی نازل فرمایا ہے جس سے ہمارے علماء رفع عنصری مراد لیتے ہیں اور میں دلائل سے ثابت کر چکا ہوں کہ یہ آیت میرے حق میں بھی الہام ہوئی ہے۔ تو اب کیا میری نسبت بھی یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ میں معہ جسم عنصری آسمان کی طرف اٹھایا جاؤں گا ۔ اگر کہو کہ تمہارا الہام ثابت نہیں تو یہ عذر فضول ہوگا کیونکہ جس لطیف پیشگوئی پر یہ الہام مشتمل ہے وہ ظہور میں آگئی ہے پس اسی دلیل سے الہام کا سچا ہونا ثابت ہو گیا۔ (سراج منیر ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۴۸ حاشیه ) منجملہ قرآن کی ضرورتوں کے ایک یہ امر بھی تھا کہ جو اختلاف حضرت مسیح کی نسبت یہود اور نصاری میں واقع تھا اس کو دور کرے سو قرآن شریف نے ان سب جھگڑوں کا فیصلہ کیا۔ جیسا کہ قرآن شریف کی یہ آیت : يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلى الخ اسی جھگڑے کے فیصلہ کے لئے ہے کیونکہ یہودی لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ نصاری کا نبی یعنی مسیح صلیب پر کھینچا گیا۔ اس لئے موافق حکم توریت کے وہ لعنتی ہوا اور اس کا رفع نہیں ہوا اور یہ دلیل اس کے کا ذب ہونے کی ہے۔ اور عیسائیوں کا یہ خیال تھا کہ لعنتی تو ہوا مگر یہ ہمارے لئے اور بعد اس کے لعنت جاتی رہی اور رفع ہو گیا اور خدا نے اپنے رہنے ہاتھ اس کو بٹھا لیا۔ اب اس آیت نے یہ فیصلہ کیا کہ رفع بلا توقف ہوا، نہ یہودیوں کے زعم پر دائمی لعنت ہوئی جو ہمیشہ کے لئے رفع الی اللہ سے مانع ہے اور نہ نصاری کے زعم پر چند روز لعنت رہی اور پھر رفع الی اللہ ہوا بلکہ وفات کے ساتھ ہی رفع الی اللہ ہو گیا۔ اور ان ہی آیات میں خدا تعالیٰ نے یہ بھی سمجھا دیا کہ یہ رفع توریت کے احکام کے مخالف نہیں کیونکہ توریت کا حکم عدم رفع اور لعنت اس حالت میں ہے کہ جب کوئی صلیب پر مارا جائے ۔ مگر صرف صلیب کے چھونے یا صلیب پر کچھ ایسی تکلیف اٹھانے سے جو موت کی حد تک نہیں پہنچتی لعنت لازم نہیں آتی اور نہ عدم رفع لازم آتا ہے۔ کیونکہ توریت کا منشاء یہ ہے کہ صلیب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ہے لیکن جرائم پیشہ کی موت کا ذریعہ ہے۔ پس جو شخص صلیب پر مر گیا وہ مجرمانہ موت مرا جو لعنتی موت ۔ مسیح صلیب پر نہیں مرا اور اس کو خدا نے صلیب کی موت سے بچالیا۔ بلکہ جیسا کہ اس نے کہا تھا کہ میری حالت یونس سے مشابہ ہے ایسا ہی ہوا نہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہ یسوع صلیب کے پیٹ پر ۔ اور اس کی دعا: ایلی ایلی لما سبقتانی سنی گئی ۔ اگر مرتا تو پیلاطوس پر بھی ضرور و بال آتا کیونکہ فرشتہ نے