تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 113

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١١٣ سورة ال عمران سزا پاتا تھا اس لئے خدا کی تقدیر نے راستبازوں پر صلیب کو حرام کر دیا تھا تا پاک کو پلید سے مشابہت پیدا نہ ہو۔پس یہ عجیب بات ہے کہ کوئی نبی مصلوب نہیں ہوا تا ان کی سچائی عوام کی نظر میں مشتبہ نہ ہو جائے۔غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو ایسے اضطراب کے زمانہ میں تسلی دی تھی کہ جب یہودی ان کے مصلوب کرنے کی فکر میں تھے۔اب جو یہ آیت براہین احمدیہ میں اس عاجز پر بطور الہام نازل ہوئی تو اس میں ایک بار یک اشارہ یہ ہے کہ اس عاجز کو بھی ایسا واقعہ پیش آئے گا کہ لوگ قتل کرنے یا مصلوب کرانے کے منصوبے کریں گے تا یہ عاجز جرائم پیشہ کی سزا پا کر حق مشتبہ ہو جائے۔سو اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس عاجز کا نام عیسی رکھ کر اور وفات دینے کا ذکر کر کے ایما فرماتا ہے کہ یہ منصوبے پیش نہیں جائیں گے اور میں ان کی شرارتوں سے محافظ ہوں گا۔(سراج منیر، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۴۳، ۴۴) اس بشارت کی حضرت عیسی کے حق میں بھی ضرورت پڑی تھی کہ اس وقت یہودیوں کی ہر روز کی دھمکیوں سے ان کی جان خطرہ میں تھی اور یہودی لوگ ایک ایسی موت کی ان کو دھمکی دیتے تھے جس موت کو ایک مجرمانہ موت سمجھ سکتے ہیں اور جس پر توریت کے رو سے بھی راستبازی کی شان کو دھبہ لگتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے ایسے پر خطر وقت میں ایسی پلید اور لعنتی موت سے ان کو بچا لیا۔پس اس الہام میں جو اسی آیت کے ساتھ اس عاجز کو ہوا یہ ایک نہایت لطیف پیشگوئی ہے جو آج کے دن سے سترہ برس پہلے کی گئی اور یہ بآواز بلند بتلا رہی ہے کہ وہی واقعہ اس جگہ بھی پیش آئے گا۔اور اس عاجز کو ٹیسی کے نام سے مخاطب کر کے یہ کہنا کہ اے عیسی ! میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔یہ در حقیقت اس واقعہ کا نقشہ دکھلانا ہے جو حضرت عیسی کو پیش آیا تھا اور وہ واقعہ یہ تھا کہ یہود نے اس ارداہ سے ان کو قتل کرنا چاہا تھا کہ ان کا کا ذب ہونا ثابت کریں اور انہوں نے یہ پہلو ہاتھ میں لیا تھا کہ ہم صلیب کے ذریعہ سے اس کو قتل کریں گے اور مصلوب لعنتی ہوتا ہے اور لعنت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان بے ایمان اور خدا سے برگشتہ اور دور اور مہجور ہو۔اور اس طرح پر ان کا کا ذب ہونا ثابت ہو جائے گا۔اور خدا نے ان کو تسلی دی کہ تو ایسی موت سے نہیں مرے گا جس سے یہ نتیجہ نکلے کہ تولعنتی اور خدا سے دور اور مہجور ہے بلکہ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا یعنی زیادہ سے زیادہ تیرا قرب ثابت کروں گا اور یہود اپنے اس ارادہ میں نامر اور ہیں گے۔پس لفظ رفع کے مفہوم میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی بھی ایک پیشگوئی مخفی تھی کیونکہ جس سچائی کے زیادہ ظاہر ہونے کا وعدہ تھا وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے وقوع میں آئی اور خدا تعالیٰ نے اپنے ایک