تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 112

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١١٢ سورة ال عمران الْقَرِينَةِ وَالْإِيمَاءِ ، وَمَا جَاءُوا به في معنوں کے سوا قرینہ اور اشارہ کے بغیر نہیں کیا، اور اگر اللہ صُورَةٍ كَوْنِ اللهِ فَاعِلًا إِلَّا ذَا الْمَعْلى فاعل ہو تو اس کے معنے صرف مارنے کے ہی ہوتے ہیں۔وَيَعْلَمُهُ كُلُّ أَحَدٍ مِنْ عُلَمَاءِ الْعَرْبِ مِن اس بات کو علماء عرب میں سے ہر شخص جانتا ہے خواہ وہ ادنی الأعلى إلى الأخلى، وَإِذَا كَتَبْتَ مَثَلًا إلى ہو یا اعلیٰ مثلاً اگر تو کسی اہل زبان کی طرف یہ لکھے کہ ان أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ هَذَا اللَّسَانِ إِنَّ اللهَ تَوَفَّى اللَّهَ تَوَفَّى فَلَانًا مِنَ الْأَحْبَابِ أَوِ الْجِيْرَانِ کہ فلاں فُلَانًا مِنَ الْأَحْبَابِ أَوِ الْجِيرَانِ، فَلَا شخص کو خدا نے وفات دے دی ہے تو وہ عرب سوائے اس يَفْهَمُ مِنْهُ هذَا الْعَرَبِيُّ إِلَّا وَفَاةَ ذلِكَ کے اور کچھ نہیں سمجھے گا کہ وہ شخص وفات پا گیا اور یہ ہرگز الْإِنْسَانِ، وَلَا يَزْعَمُ أَبَدًا أَنَّهُ أَنَامَهُ أَوْ گمان نہیں کرے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو سلا دیا ہے۔یا رَفَعَهُ بِالْجِسْمِ مِنْ ذلِكَ الْمَكَانِ بَل اس جگہ سے زندہ مع جسم اٹھا لیا ہے بلکہ فوراً اس شخص کی يَسْتَرْجِعُ عَلَى مَوْتِهِ كَمَا هُوَ عَادَةُ موت پر آگاہ ہو کر مومنوں کی عادت کے مطابق إِنَّا لِلہ الْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھے گا۔( ترجمہ از مرتب ) انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۵۶) براہین احمدیہ کا وہ الہام یعنی يعيسى إني مُتَوَفِّيكَ جو سترہ برس سے شائع ہو چکا ہے اس کے اس وقت إِنِّي خوب معنے کھلے یعنی یہ الہام حضرت عیسی کو اس وقت بطور تسلی ہوا تھا جب یہودان کے مصلوب کرنے کے لئے کوشش کر رہے تھے۔اور اس جگہ بجائے یہود، ہنود کوشش کر رہے ہیں اور الہام کے یہ معنے ہیں کہ میں تجھے ایسی ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچاؤں گا۔دیکھو! اس واقعہ نے عیسی کا نام اس عاجز پر کیسے چسپاں کر دیا (سراج منیر، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۲۳ حاشیه ) ہے۔اے عیسیٰ میں تجھے طبیعی وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔اور تیرے تابعین کو ان لوگوں پر غلبہ بخشوں گا جو مخالف ہوں گے۔۔۔۔۔۔یہ آیت حضرت مسیح پر اس وقت نازل ہوئی تھی کہ جب ان کی جان یہودیوں کے منصوبوں سے نہایت گھبراہٹ میں تھی اور یہودی اپنی خباثت سے ان کے مصلوب کرنے کی فکر میں تھے تا مجرمانہ موت کا داغ ان پر لگ کر توریت کی ایک آیت کے موافق ان کو ملعون ٹھہر اویں کیونکہ توریت میں لکھا تھا کہ جو لکڑی پر لٹکایا جائے وہ لعنتی ہے۔چونکہ صلیب کو جرائم پیشہ سے قدیم طریق سزا دہی کی وجہ سے ایک مناسبت پیدا ہو گئی تھی اور ہر ایک خونی اور نہایت درجہ کا ہد کا رصلیب کے ذریعہ سے