تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 111
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران الْإِسْتِيْفَاء وَ فِيْهِ إِشَارَةٌ إِلى اَخْلِ شَيْءٍ میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ موت اور فنا کے بعد بھی بَعْدَ الْإِمَانَةِ وَالْإِفْنَاءِ وَالْأَخْذُ يَدُلُّ عَلَی کسی چیز کا اخذ (لینا) موجود ہے اور کسی چیز کا ماخوذ ہونا الْبَقَاءِ، فَإِنَّ الْمَعْدُومَ لَا يُؤْخَذُ وَلَا يَلِيقُ اس کے باقی رہنے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ جو چیز معدوم بِالْأَخْنِ وَالْإِقْتِنَا وَهَذَا مِنَ الْعُلُومِ ہو وہ ما خود نہیں ہوسکتی اور یہ نکتہ علوم حکمیہ قرآنیہ میں سے الْحِكَمِيَّةِ الْقُرْآنِيَّةِ فَإِنَّهُ رَجَعَ الْقَوْمَ إِلى ہے ۔ کیونکہ قرآن نے عرب قوم کو ان کی زبان کی طرف لِسَانِهِمُ الْمُبَارَكَةِ الْإِلْهَامِيَّةِ لِيَعْلَمُوا جو مبارک اور الہامی ہے توجہ دلائی ہے تا وہ جان لیں کہ أَنَّ الْأَرْوَاحَ بَاقِيَةُ وَالْمَعَادَ حَقِّ، وَلْيَنْتَهُوا ارواح باقی رہیں گی اور قیامت برحق ہے اور تاکہ وہ مِنْ عَقَائِدِ الدَّهْرِيِّينَ وَالطَّبِيعِيِّينَ دہریوں اور نیچریوں کے عقائد سے بچ جائیں۔ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحه ۱۵۳، ۱۵۴) ( ترجمه از مرتب ) لَمَّا كَانَ الْمَلْحُوظ فِي مَعْنَى التَّوَقِّی چونکہ لفظ توفیٰ میں امانت مع الابقاء کا مفہوم ملحوظ ہوتا مَفْهُوْمَ الْإِمَاتَةِ مَعَ الَّا بُقَاءِ فَلأَجْلِ ہے اس لئے یہی لفظ انسان کے سوا کسی اور کے لئے ذلِكَ لَا يُسْتَعْمَلُ هَذَا اللَّفْظُ فِي غَيْرِ استعمال نہیں ہوتا۔ انسان کے علاوہ دوسری چیزوں کے الْإِنْسَانِ، بَلْ يُسْتَعْمَلُ فِي غَيْرِهِ لَفْظ لئے لفظ امانت و اہلاک وافتاء استعمال کئے جاتے ہیں مثلاً الْإِمَاتَةِ وَالْإِهْلَاكِ وَالْإِفْنَاءِ مَثَلًا لَّا یہ نہیں کہتے تَوَلَّى اللَّهُ الْحِمَارَ، أَوِ الْقُنْفُذَ وَالْأَفْعَى يُقَالُ تَوَلَّى اللَّهُ الْحِجَارَ، أَوِ الْفُنْفُنَ وَالْأَفْعَى وَالْفَارَ ، کہ اللہ نے فلاں گدھے یا کچھوے یا اژدھا یا وَالْفَأْرَ، فَإِنَّ أَرْوَاحَهَا لَيْسَتْ بِبَاقِيَةٍ چوہے کی توقع کی کیونکہ ان جانوروں کی روحیں انسانی روحوں کی طرح باقی رہنے والی نہیں ۔ ( ترجمہ از مرتب ) كَأَرْوَاحِ الْأَدَمِنِينَ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ا ا صفحه ۱۵۴ حاشیہ ) وَ فَخَصْتُ فِي كَلَامِ الْقَوْمِ وَ تَصَحَفْتُ فَمَا میں نے اہل عرب کے کلام کی ورق گردانی کی اور اسے وَجَدتُ لفظ التَّوَفَّى فِي كَلَام أَو شِعْرِ خوب اچھی طرح جانچا مجھے کسی ادیب کے کلام یا کسی شاعر کے الشُّعْرَاءِ، إِلَّا بِمَعْنَى الْإِمَاتَةِ مَعَ الْإِبْقَاءِ، شعر میں تَوَفَّی کے لفظ کے معنے اماتة مع الابقاء کے سوا وَمَا اسْتَعْمَلُوا فِي غَيْرِهِ إِلَّا بَعْدَ إِقَامَةِ کچھ نہیں ملے ان لوگوں نے لفظ توفی کا استعمال مذکورہ بالا لے سہو کتابت ہے۔ ترجمہ کی روشنی میں صحیح لفظ ” تصفحت “ ہے۔ ناشر