تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 107
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۷ سورة ال عمران اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت دو جگہ توفی کا لفظ استعمال کیا ہے اور یہ لفظ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بھی قرآن کریم میں آیا ہے اور ایسا ہی حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا میں بھی یہی لفظ اللہ جل شانہ نے ذکر فرمایا ہے اور کتنے اور مقامات میں بھی موجود ہے۔ اور ان تمام مقامات پر نظر ڈالنے سے ایک منصف مزاج آدمی پورے اطمینان سے سمجھ سکتا ہے کہ توفی کے معنے ہر جگہ قبض روح اور مارنے کے ہیں نہ اور کچھ۔ کتب حدیث میں بھی یہی محاورہ بھرا ہوا ہے۔ کتب حدیث میں توفی کے لفظ کو صد ہا جگہ پاؤ گے مگر کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ بجز مارنے کے کسی اور معنے پر بھی استعمال ہوا ہے؟ ہرگز نہیں ! بلکہ اگر ایک امی آدمی عرب کو کہا جائے کہ توفی زید تو وہ اس فقرہ سے یہی سمجھے گا کہ زید وفات پا گیا۔ خیر عربوں کا عام محاورہ بھی جانے دو، خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ملفوظات مبارکہ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ جب کوئی صحابی یا آپ کے عزیزوں میں سے فوت ہوتا تو آپ توفی کے لفظ سے ہی اس کی وفات ظاہر کرتے تھے اور جب آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو صحابہ نے بھی توفی کے لفظ سے ہی آپ کی وفات ظاہر کی ۔ اسی طرح حضرت ابوبکر کی وفات ، حضرت عمر کی وفات ۔ غرض تمام صحابہ کی وفات توفی کے لفظ سے ہی تقریراً تحریراً بیان ہوئی اور مسلمانوں کی وفات کے لئے یہ لفظ ایک عزت کا قرار پایا تو پھر جب مسیح پر یہی وارد ہوا تو کیوں اس کے خود تراشیدہ معنے لئے جاتے ہیں؟ اگر یہ ؟ اگر یہ عام محاورہ کا فیصلہ منظور نہیں تو دوسرا طریق فیصلہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ جو مسیح کے متعلق قرآنی آیات میں توفی کا لفظ موجود ہے اس کے معنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے کیا کئے ہیں۔ چنانچہ ہم نے یہ تحقیقات بھی کی تو بعد دریافت ثابت ہوا کہ صحیح بخاری میں یعنی کتاب التفسیر میں آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مارنا ہی لکھا ہے اور پھر اسی موقعہ پر آیت اني مُتَوَفِّيكَ کے معنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مُميتك درج ہیں یعنی اے عیسی ! میں تجھے مارنے والا ہوں ۔ اتمام الحجة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۹۲ ، ۲۹۳) مسئلہ وفات مسیح میں کسی جگہ حدیث نے قرآن شریف کی مخالفت نہیں کی بلکہ تصدیق کی۔ قرآن میں مُتَوَفِّيكَ آیا ہے ، حدیث میں مُمِيتُك آ گیا ہے۔ قرآن میں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي آیا ، حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی لفظ فَلَمَّا تَوَفِّيتَنِی بغیر تغییر و تبدیل کے اپنے پر وارد کر کے ظاہر فرما دیا کہ اس کے معنے مارنا ہے نہ اور کچھ اور نبی کی شان سے بعید ہے کہ خدا تعالیٰ کے مرادی معنوں کی تحریف کرے۔