تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 101

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+1 سورة ال عمران سے ایک وعدہ کی آیت اور ایک ایفاء وعدہ کی آیت ہے آپ پر کھل جائے گا کہ جس طرز سے وعدہ تھا اسی طرز سے وہ پورا ہونا چاہئے تھا یعنی وعدہ یہ تھا کہ اے عیسی ! میں تجھے مارنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اس سے صاف کھل گیا کہ ان کی روح اٹھائی گئی ہے کیونکہ موت کے بعد روح ہی اٹھائی جاتی ہے نہ کہ جسم۔خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں کہا کہ میں تجھے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں بلکہ یہ کہا کہ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور جو لوگ موت کے ذریعہ سے اس کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اسی قسم کے لفظ ان کے حق میں بولے جاتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے یا خدا تعالی کی طرف رجوع کر گئے جیسا کہ اس آیت میں بھی ہے: يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ( الفجر : ۲۸ تا ۳۱) اور جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اِلَيْهِ رجِعُونَ (البقرة : ۱۵۷)۔(الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۸) قرآن کریم کے عموم محاورہ پر نظر ڈالنے سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تمام قرآن میں توفی کا لفظ قبض روح کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔یعنی اس قبض روح میں جو موت کے وقت ہوتا ہے دو جگہ قرآن کریم میں وہ قبض روح بھی مراد لیا ہے جو نیند کی حالت میں ہوتا ہے۔لیکن اس جگہ قرینہ قائم کر دیا ہے جس سے سمجھا گیا ہے کہ حقیقی معنے توئی کے موت لئے ہیں اور جو نیند کی حالت میں قبض روح ہوتا ہے وہ بھی ہمارے مطلب کے مخالف نہیں کیونکہ اس کے تو یہی معنے ہیں کہ کسی وقت تک انسان ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی روح کو اپنے تصرف میں لے لیتا ہے اور پھر انسان جاگ اٹھتا ہے، سو یہ وقوعہ ہی الگ ہے اس سے ہمارے مخالف کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔بہر حال جب کہ قرآن میں لفظ توفی کا قبض روح کے معنوں میں ہی آیا ہے اور احادیث میں ان تمام مواضع میں جو خدا تعالیٰ کو فاعل ٹھہرا کر اس لفظ کو انسان کی نسبت استعمال کیا ہے جا بجا موت ہی معنے لئے ہیں تو بلاشبہ یہ لفظ قبض روح اور موت کیلئے قطعیۃ الدلالت ہو گیا۔اور بخاری جو اصح الکتب ہے اس میں بھی تفسیر آیت: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی تقریب میں مُتوفِّيكَ کے معنے مُبيتُك لکھا ہے۔اور یہ بات ظاہر ہے کہ موت اور رفع میں ایک ترتیب طبعی واقع ہے ہر ایک مومن کی روح پہلے فوت ہوتی ہے پھر اس کا رفع ہوتا ہے۔اس ترتیب طبیعی پر یہ ترتیب وضعی آیت کی دلالت کر رہی ہے کہ پہلے انی متوفیک فرمایا اور پھر بعد اس کے رافعہ کہا اور اگر کوئی کہے کہ رَافِعُكَ مقدم اور مُتَوَفِّيكَ مؤخر ہے۔یعنی رَافِعُكَ آیت کے سر پر اور مُتَوَفِّيكَ فقرہ: جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا کے بعد اور بیچ میں یہ فقرہ محذوف ہے ثُمَّ مُنَزِّلُكَ إِلَى الْأَرْضِ، سو یہ ان