تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 101
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۱ سورة ال عمران سے ایک وعدہ کی آیت اور ایک ایفاء وعدہ کی آیت ہے آپ پر کھل جائے گا کہ جس طرز سے وعدہ تھا اسی طرز سے وہ پورا ہونا چاہئے تھا یعنی وعدہ یہ تھا کہ اے عیسی ! میں تجھے مارنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اس سے صاف کھل گیا کہ ان کی روح اٹھائی گئی ہے کیونکہ موت کے بعد روح ہی اٹھائی جاتی ہے نہ کہ جسم ۔ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں کہا کہ میں تجھے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں بلکہ یہ کہا کہ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور جو لوگ موت کے ذریعہ سے اس کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اسی قسم کے لفظ ان کے حق میں بولے جاتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے یا خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کر گئے جیسا کہ اس آیت میں بھی ہے : يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر : ۲۸ تا ۳۱) اور جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے: اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا الَيْهِ رَجِعُونَ (البقرة : ۱۵۷) - الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۸) قرآن کریم کے عموم محاورہ پر نظر ڈالنے سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تمام قرآن میں توفی کا لفظ قبض روح کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ یعنی اس قبض روح میں جو موت کے وقت ہوتا ہے دو جگہ قرآن کریم میں وہ قبض روح بھی مراد لیا ہے جو نیند کی حالت میں ہوتا ہے۔ لیکن اس جگہ قرینہ قائم کر دیا ہے جس سے سمجھا گیا ہے کہ حقیقی معنے توفی کے موت لئے ہیں اور جو نیند کی حالت میں قبض روح ہوتا ہے وہ بھی ہمارے مطلب کے مخالف نہیں کیونکہ اس کے تو یہی معنے ہیں کہ کسی وقت تک انسان سوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی روح کو اپنے تصرف میں لے لیتا ہے اور پھر انسان جاگ اٹھتا ہے، سو یہ وقوعہ ہی الگ ہے اس سے ہمارے مخالف کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ بہر حال جب کہ قرآن میں لفظ توفی کا قبض روح کے معنوں میں ہی آیا ہے اور احادیث میں ان تمام مواضع میں جو خدا تعالیٰ کو فاعل ٹھہرا کر اس لفظ کو انسان کی نسبت استعمال کیا ہے جا بجا موت ہی معنے لئے ہیں تو بلا شبہ یہ لفظ قبض روح اور موت کیلئے قطعیۃ الدلالت ہو گیا ۔ اور بخاری جو اصح الکتب ہے اس میں بھی تفسیر آیت : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی تقریب میں مُتَوَفِّيكَ کے معنے مُميتك لکھا ہے۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ موت اور رفع میں ایک ترتیب طبیعی واقع ہے ہر ایک مومن کی روح پہلے فوت ہوتی ہے پھر اس کا رفع ہوتا ہے۔ اسی ترتیب طبعی پر یہ ترتیب وضعی آیت کی دلالت کر رہی ہے کہ پہلے اني مُتَوَفِّيكَ فرمایا اور پھر بعد اس کے رافِعُكَ کہا اور اگر کوئی کہے کہ رَافِعُكَ مقدم اور مُتَوَفِّيكَ مؤخر ہے ۔ یعنی رَافِعُكَ آیت کے سر پر اور مُتَوَفِّيكَ فقرہ: جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا کے بعد اور بیچ میں یہ فقرہ محذوف ہے ثُمَّ مُنَزِّلُكَ إِلَى الْأَرْضِ، سو یہ ان